Al Qamar Online Urdu News Network
SMS Guru
Al Qamar Online Urdu News Network
  
Al Qamar Online Blogs
| | |
RSS Feed
Important News International News News From Pakistan News from India   Special Reports and Features Columns   Science and Technology News Business News Editorial SportS News News from India, Pakistan, Bangla Desh, SriLanga, Maldives, Bhutan Showbiz News Interviews Politics News
Al Qamar Online; The largest Online Urdu News Network containing dozens of Urdu Channels From London, Denmark, US & Pakistan

Archive for سماج

ہندو دہشت گرد تنظیموں کی مسلم کشی

ہندو انتہاء پسند تنظیموں ”آر ایس ایس” اور ”بجرنگ دل” کے اقلیتوںپر حملوں کی وجہ سے بھارت میں مختلف ریاستوں میں پُرتشدد کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی لہر دیکھی جارہی ہے۔ بھارتی اقلیتیں جن میں مسلمان اور عیسائی شامل ہیں۔ بار بار حملوں کے خوف سے ایک بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ جات

زندگی کی بنیاد

گھر میں پیار محبت کا ماحول زندگی کی بنیاد ہے
کبھی اٹل خواہش کا بھی پورا نہ ہونا بڑی خوش قسمتی ہوتا ہے
بہترین تعلق وہ ہے جس میں باہمی محبت باہمی ضرورت سے زیادہ ہو
بصیرت بغیر عمل کے صرف ایک خواب ہے
اور عمل بغیر بصیرت کے فقط وقت گذارنا ہے
مگر بصیرت کے ساتھ عمل دنیا بدل کر رکھ دیتا ہے

تبصرہ جات (4)

ہماری ثقافت کیا ہے ؟

کئی سالوں سے ثقافت [انگریزی میں کلچر] کا غوغا تو بہت ہے لیکن اکثریت نہیں جانتی کہ ثقافت ہوتی یا ہوتا کیا ہے اور نہ کسی کو معلوم ہے کہ قدیم ثقافت تو بہت دُور کی بات ہے ایک صدی قبل ہماری ثقافت کیا تھی ۔ آخر ہماری ثقافت ہے کیا اور کہیں ہے بھی کہ نہیں ؟ یہ ثقافت یا کلچر ہوتی کیا بلا ہے ؟

آج سے ترپن سال قبل جب میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا تو میرا ثقافت کے ساتھ پہلا تعارف کچھ اِس طرح ہوا ۔ اپنے ایک ہم جماعت کے گھر گیا وہ نہ ملا ۔ دوسرے دن اس نے آ کر معذرت کی اور بتایا کہ رشیّن کلچرل ٹروپے نے پرفارمینس دینا تھی ۔ میں دیکھنے چلا گیا ۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا دیکھا ؟ کہنے لگا ” اہُوں ۔ کلچر کیا تھا نیم عریاں طوائفوں کا ناچ تھا ” ۔

ثقافت کہتے ہیں ۔ ۔ ۔

۔ 1 ۔ خوائص یا خصوصیات جو کسی شخص میں اس فکر یا تاسف سے پیدا ہوتی ہے کہ بہترین سلوک ۔ علم و ادب ۔ ہُنر ۔ فَن ۔ محققانہ سعی کیا ہیں
۔ 2 ۔ وہ جو علم و ادب اور سلوک میں بہترین ہے
۔ 3 ۔ ایک قوم یا دور کے تمدن ۔ تہذیب یا شائستگی کی شکل
۔ 4 ۔ دماغ کی تعلیم و تربیت کے ذریعہ ترقی ۔ نشو و نما ۔ تکمیل یا اصلاح
۔ 5 ۔ کسی گروہ کا ساختہ رہن سہن کا طریقہ جو نسل در نسل چلا ہو
۔ 6 ۔ طور طریقہ اور عقائد جو کسی نظریاتی گروہ یا صحبت کی نمایاں صفت ہو

اب اپنے ملک کے چند تجربات جو روز مرّا کا معمول بن چکے ہیں

ميرے دفتر کے تين پڑھے لکھے ساتھی آفيسروں نے چھٹی کے دن سير کا پروگرام بنايا اور مجھے بھی مدعُو کيا ۔ صبح 8 بجے ايک صاحب کے گھر پہنچ کر وہاں سے روانگی مقرر ہوئی ۔ وہ تينوں قريب قريب رہتے تھے ۔ ميرا گھر اُن سے 40 کلوميٹر دور تھا ۔ ميں مقررہ مقام پر5 منٹ کم 8 بجے پہنچ گيا تو موصوف سوئے ہوئے تھے ۔ دوسرے دونوں کے گھر گيا تو اُنہيں بھی سويا پايا ۔ مجھے ايک گھنٹہ انتظار کرانے کے بعد اُنہوں نے 9 بجے سير کا پروگرام منسوخ کر ديا اور ميں اپنا سا مُنہ لے کر تین گھنٹے ضائع اور 80 کلوميٹر کا سفر کر کے واپس گھر آ گيا ۔

چند سال قبل ميں لاہور گيا ہوا تھا اور قيام گلبرگ ميں تھا ۔ رات کو بستر پر دراز ہوا تو اُونچی آواز ميں ڈھما ڈھا موسيقی اور ساتھ بے تحاشہ شور ۔ سونا تو کُجا دماغ پھٹنے لگا ۔ انتہائی کَرب ميں رات گذری ۔ صبح اپنے مَيزبان سے ذِکر کيا تو بيزاری سے بولے “ہماری قوم پاگل ہو گئی ہے ۔ يہ بسنت منانے کا نيا انداز ہے “۔ محلہ میں کوئی شیرخوار بچہ ۔ بوڑھا یا مریض پریشان ہوتا ہے تو اُن کی بلا سے ۔

آدھی رات کو سڑک پر کار سے سکرِیچیں ماری جا تی ہیں ۔ اُن کی بلا سے کہ سڑک کے ارد گرد گھروں میں رہنے والے بِلبلا کر نیند سے اُٹھ جائیں ۔ ہمارے گھر کے پيچھے والی سڑک پر رات گيارہ بارہ بجے کسی مالدار کی ترقی يافتہ اولاد روزانہ اپنی اِسی مہارت کا مظاہرہ کرتی تھی ۔ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کيا کہ وہ خاندان يہاں سے کُوچ کر گيا ۔

ایک جگہ بھِیڑ اور شور و غُوغا سے متوجہ ہوۓ پتہ چلا کہ کوئی گاڑی ایک دس بارہ سالہ بچّے کو ٹکر مار کر چلی گئی ہے ۔ بچہ زخمی ہے ۔ کوئی حکومت کو کوس رہا ہے کوئی گاڑی والے کو اور کوئی نظام کو مگر بچّے کو اُٹھا کر ہسپتال لیجانے کے لئے کوئی تیار نہیں ۔ يہ کام شائد اللہ تعالٰی نے مجھ سے اور ميرے جيسے ايک اور غير ترقی يافتہ [؟] سے لينا تھا ۔

ایک مارکیٹ کی پارکنگ میں گاڑیاں عمودی پارک کی جاتی ہیں ۔ کار پارک کر کے چلا ہی تھا کہ ایک صاحب نےمیری کار کے پیچھے اپنی کار پارک کی اور چل دیئے ۔ ان سے مؤدبانہ عرض کیا کہ جناب آپ نے میری گاڑی بلاک کر دی ہے پارکنگ میں بہت جگہ ہے وہاں پارک کر دیجئے ۔ وہ صاحب بغیر توجہ دیئے چل ديئے ۔ ساتھ چلتے ہوئے مزید دو بار اپنی درخواست دہرائی مگر اُن پر کوئی اثر نہ ہوا ۔ آخر اُن کا بازو پکڑ کر کھینچا اور غُصہ دار آواز میں کہا “گاڑی ہٹائیے اپنی وہاں سے” ۔ تو وہ صاحب اپنی ساتھی کو وہیں ٹھیرنے کا کہہ کر مُڑے اور اپنی کار ہٹائی

پھَل لینے گئے ۔ دکاندار سے کہا “بھائی داغدار نہ دینا بڑی مہربانی ہو گی” ۔ دکاندار بولا “جناب ہماری ایسی عادت نہیں” ۔ اس نے بڑی احتیاط سے چُن چُن کے شاپنگ بیگ میں ڈال کر پھَل تول دیئے ۔ گھر آ کر دیکھا تو 20 فيصد داغدار تھے ۔ ۔ ۔ دراصل اُس نے صحیح کہا تھا “ہماری ایسی عادت نہیں” یعنی اچھا دینے کی ۔

پندرہ سولہ سال پہلے کا واقع ہے جب میں جنرل منیجر [گریڈ 20] تھا ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے ڈسپنسری کے سامنے قطار میں کھڑا تھا چپڑاسی سے آفسر تک سب ایک ہی قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک صاحب [گریڈ 19] آۓ اور سیدھے کھِڑکی پر جا کر چِلّائے” اوۓ ۔ یہ دوائیاں دو” ڈسپنسر نے سب سے پہلے اسے دوائیاں دے دیں ۔

ایک آفیسر کسی غیر ملک کا دورہ کر کے آۓ ۔ میں نے پوچھا کیسا ملک ہے ؟ بولے ” کچھ نہ پوچھیئے ۔ وہاں تو روٹی لینے کے لئے لوگوں کی قطار لگی ہوتی ہے” ۔ کہہ تو وہ صحیح رہے تھے مگر غلط پیراۓ میں ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہاں تو بس پر چڑھنے کے لئے بھی قطار لگتی ہے ۔ ہسپتال میں دوائی لینے کے لئے بھی ۔ کیونکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے حق کا احترام کرتے ہیں ۔

والدین اور اساتذہ نے ہمیں تربیت دی کہ جب کسی سے ملاقات ہو جان پہچان نہ بھی ہو تو سلام کرو ۔ کبھی کسی کو سلام کیا اور اس نے بہت اچھا برتاؤ کیا اور کبھی صاحب بہادر ہميں حقير جان کر اکڑ گئے ۔

کوئی ہفتہ پہلے ميں کار پر جا رہا تھا ۔ ايک چوک پر ميں داہنی لين ميں تھا جو داہنی طرف مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ ايک لين ميرے بائيں طرف تھی جو بائيں جانب مُڑنے يا سيدھا جانے کيلئے تھی ۔ بتی سبز ہونے پر چل پڑے ۔ ميں چوک يا چوراہا يا چورنگی ميں داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ ايک کار ميری بائيں جانب سے بڑی تيزی سے ميرے سامنے سے گُذر کر داہنی طرف کو گئی ۔ ديکھا تو وردی ميں ملبوس ايک کرنل اُس کار کو چلا رہے تھے ۔ سُنا تھا کہ فوج ميں بڑا نظم و ضبط ہوتا ہے ۔

بازار میں آپ روزانہ دیکھتے ہیں کہ بلا توقف نقلی چیز اصل کے بھاؤ بیچی جا رہی ۔

ہم ہیں تو مسلمان مگر ہم نے ناچ گانا ۔ ڈھول ڈھمکْا اور نیو ایئر نائٹ اپنا لی ہے ۔ بسنت پر پتنگ بازی کے نام پر راتوں کو ہُلڑبازی ۔ اُونچی آواز میں موسیقی ۔ شراب نوشی ۔ طوائفوں کا ناچ غرضیکہ ہر قسم کی بد تمیزی جس میں لڑکیاں يا عورتيں بھی لڑکوں کے شانہ بشانہ ہوتی ہیں ۔ [ابھی ہولی اور کرسمس باقی رہ گئی ہيں]

کیا یہی ہے ہماری ثقافت یا کلچر ؟ کیا پاکستان اِنہی کاموں کے لئے حاصل کيا گيا تھا ؟ کیا یہی ترقی کی نشانیاں ہیں ؟

یا اللہ ہمیں صحیح راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما ۔ آمین ۔

تبصرہ جات

کیا خبریں ؟کیا تبصرے؟

محترم نذیر ناجی صاحب کا محولہ بالہ کالم تیرہ اکتوبر کے روزنامہ جنگ میں نظر سے گزرا۔ ان کی تحریروں میں تعمق ہوتا ہے۔ صاحب فکر ارباب بست و کشاد ان کی تحریروں سے استفادہ کر سکتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ متذکرہ کالم ناجی صاحب کے عمومی طرز تحریر کا عکاس نہیں ہے۔ لگتا ہے یہ کالم انہوں نے بالاکراہ لکھا ہے۔

فرد ہو یا قوم ذاتی مفاد جو مقدم رکھتی ہے۔ آدم سمٹ نے انسانی ترقی میں ذاتی مفاد کے غیر محسوس ہاتھ کی کار فرمائی کا ذکر کیا ہے اسی Self interest کاتذکرہ ہزاروں سال پرانی Mahabharata (Reading 107), an inquiry in the human condition میں موجود ہے۔

اقتباس:

This material world is short through with self interests. The afection between brother and brother, as between man and wife is based solely on interest . I know of no love or affection that is without some purpose.

پاکستان نے بعض وعدے طوعاًو کرہاً کئے یہ وعدے نہیں بلکہ حکم کی تعمیل کے لئے سر تسلیم خم کرنا تھا۔ ان وعدوں میں ایک وعدہ دہشت گردی میں یا طالبانی جہاد کے خلاف پاکستان کا تعاون تھادہشت گردی ، جہاد ، سول نافرمانی، جنگ آزادی ۔ ان سب اصطلاعات کا مفہوم قاری کی perceptionمہیا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے کچھ شخص دہشت گردی کو صدق دل سے جہاد سمجھتے ہیں ۔

ناجی صاحب سے التماس ہے کہ بشرط فرصت وہ Dr. Ihekwaba D. Onwudiweکی کتاب Globalisation of Terrorپڑ ھ لیں ۔ اس کتاب میں مصنف نے دنیا بھر میں نام نہاد تشد د کا سبب Exploitative systemکو گردانا ہے اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کے لئے انہوں نے World Systems Theory کا سہارا لیا ہے۔ راقم الحروف نے اپنے مضمونBeyond Dirty Bombs(فرنٹیر پوسٹ، ڈیلی میل نیوز 8اپریل 2008) میں ڈاکڑ صاحب کا نظریہ پیش کیا ہے۔

اقتباس:
History of terrorism reflects that “terrorists” are interested in symbolic targets (which could yield widespread publicity), not in mass killing (vide Verindre Grover’s Encyclopaedia of International Terrorism). A “dirty bomb” is not known to have been tested by any country or detonated by any “terrorist” anywhere in the world. So, its composition and scope of its destructive power is shrouded in mystery. However, it is generally believed to “consist of a bomb made of conventional explosives such as TNT, salted with radioactive material”. Contrary to the “dirty bombs”, fall-out of the tested A-bombs is well recorded. The major powers declared moratoriums on nuclear-bombs testing only in 1992. The pre-1992-period test scoreboard of the USA, former Soviet Union, France, and Britain is an explosion every 18 days, 21 days, 61 days, and 331 days (R Venkataraman Nuclear Explosion and its Aftermath). (Extract from Beyond Dirty Bombs).

بہتر ہو گا کہ ناجی صاحب دقیق موضوعات پر طبع ازمائی کرنے کے بجائے ہلکے پھلکے سیاسی موضوعات پر اکتفا کریں۔

تبصرہ جات

مسلمانوں اورمسیحیوں کی قتل گاہ

بھارتی ریاست آندھرا پردیش حیدر آباد دکن بھینسہ ٹائون کے ایک گائوں وٹولی میں مسلمانوں کے واحد گھر کو انتہاء پسند ہندوئوں نے مکمل بدمعاشی اور دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں تین بچوں سمیت چھ مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ »۔۔۔ مکمل تحریر پڑھئے۔

تبصرہ (1)

حدیث اور سُنّت کی اہمیت

مسلمان ہونے کا دعویدار ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ وہ صرف قرآن شریف کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں ۔ ایسے لوگوں نے یا تو قرآن شریف پڑھا ہی نہیں یا صرف طوطے کی طرح پڑھا ہے ۔ سوائے اس مسلمان کے جو پاگل یا بیہوش ہو نماز کسی صورت میں معاف نہیں ۔ قرآن شریف میں نماز پڑھنے کا طریقہ ۔ ہر نماز میں کتنی رکعتیں پڑھی جائیں اور کیا پڑھا جائے کہیں بھی درج نہیں ۔ اسی طرح روزے کیسے رکھے جائیں ۔ زکات کیسے دی جائے اور حج کیسے کیا جائے ۔ اس سب کی بھی تفصیل قرآن شریف میں نہیں ہے ۔ یہ سب ہمیں سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زبان اور اپنے عمل سے بتایا اور اسی کو علٰی الترتیب حدیث اور سنّت کہتے ہیں جو پہلے تو مسلمانوں کو یاد تھیں مگر ان کے بھول جانے یا بدل جانے کے خدشہ کی وجہ سے انہیں بہت احتیاط اور چھانٹ پھٹک کے بعد کتابی شکل دی گئی ۔

سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے کے متعلق صرف چند آیات ۔

سورت ۔ 2 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو “اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اسکے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 59 ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو اللہ کے رسول کی اور اُن کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں ۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔

کچھ لوگ ایسے اعمال کو حدیث قرار دے دیتے ہیں جو کہ حدیث میں موجود نہیں ہوتے یا کسی اور طریقہ میں موجود ہوتے ہیں ۔ حدیث کے حوالہ سے عام کہا جاتا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے ۔ اصل حدیث یہ ہے ” النّضافہ مِن الْایمان” یعنی صفائی ایمان کا حصہ ہے ۔

تبصرہ جات (5)

اسلام اور رسمیں

ہم نے بہت سے رَسَم و رواج کو اپنا کر اُن میں سے بہت سے اِسلامی سمجھ لئے ہوئے ہیں ۔ اِن رَسَم و رواج کو ہم اللہ اور اس کے آخری نبی سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں حالانکہ اِسلام [قرآن] رَسَم و رواج کی مخالفت کرتا ہے اور اِنسان کو صِرف اللہ اور اُس کے آخری نبی کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ۔ جوں جوں سائنس ترقی کرتی جارہی ہے ہماری رسُوم بھی ترقی کر رہی ہیں ۔ عرس ۔ چراغاں ۔ محفلِ میلاد ۔ کُونڈے بھرنا ۔ گیارہویں کا ختم ۔ میلادُالنّبی کا جلُوس ۔ مُحَرّم کا جلُوس ۔ شامِ غریباں ۔ قَبَروں پر چادریں چڑھانا ۔ انسانوں [پیروں] اور قبروں سے مرادیں مانگنا ۔ قبروں پر ناچنا [دھمال ڈالنا] ۔ قصِیدہ گوئی وغیرہ وغیرہ ۔ لمبی فہرست ہے ۔

دس بارہ سال پہلے شادی سے پہلے قرآن خوانی کا رواج شروع ہوا ۔ ہمارے محلہ میں ایک لڑکی کی شادی ہونا تھی ۔ میری بیوی کو پیغام آیا کہ مہندی والے دِن قرآن خوانی اور درس ہوگا ۔ وہ خوش ہوئی کہ خرافات چھوڑ کر قرآن کی تلاوت کریں گے ۔ وہاں سے بیوی واپس آئی تو چہرہ سُرخ منہ پھُلایا ہوا ۔ پوچھا کیا ہوا ؟ کہنے لگی ” قرآن شریف ابھی بمشکل پڑھا کہ بلند آواز سے پاپ موسیقی شروع ہوگئی ۔ میں وہاں سے بھاگ آئی ہوں ۔ کھانے پینے کے لئے روک رہے تھے میں معذرت کر کے آگئی” ۔ ۔ ۔ شائد اِسی کو روشن خیالی کہتے ہیں ؟

دو تین سال قبل مَسجِد میں نِکاح پڑھانے کا فیشن شروع ہوا ۔ مسجد میں نِکاح پڑھانا اچھی بات ہے لیکن ہوتا کیا ہے کہ پہلے دُولہا اور چند لوگ نماز مَسجِد میں پڑھتے ہیں ۔ نماز کے بعد نکاح پڑھایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد سب گھروں کو جا کے تیار ہو کر فور یا فائیو سٹار ہوٹل کا رُخ کرتے ہیں جہاں کھانے کے بعد ناچ گانے سمیت دنیا کی ہر خرافات ہوتی ہے ۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم دھوکہ کس کو دیتے ہیں ؟

بھارتی فلمیں دیکھ دیکھ کر اُن میں دِکھائی گئی بہت سی ہِندُوانا رَسمیں بھی اپنا لی گئی ہیں ۔ مہندی کے نام سے دُولہا دُلہن کو اکٹھے بٹھا کر اُن کے سرّوں پر سے پیسے وارنا ۔ شادی شُدہ خوش باش عورتوں کا اُن کے سروں پر ہاتھ پھیرنا یا اُن کے گِرد طواف کرنا اور اُن کے اُوپر کچّے چاول پھینکنا ۔ [اب شائد کپڑوں کو گرہ لگا کر آگ کے گرد پھیرے لگانا اپنانا باقی رہ گیا ہے ] ۔ ایک نیک خاندان کی لڑکی کی منگنی اس لئے ٹوٹ گئی کہ ہونے والے دولہا کی والدہ شادی سے ایک دن پہلے مہندی کی رَسَم کرنا چاہتی تھیں جس میں وہ چار سوہاگنوں کی رَسَم بھی کرنا چاہتی تھیں ۔ لڑکی کی والدہ نے تَفصِیل پوچھی تو پتہ چلا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی ساتھ ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور چار شادی شدہ عورتیں جن کے خاوند زندہ ہوتے ہیں اور وہ خوش باش ہوتی ہیں لڑکی لڑکے کے گرد طواف کرتی جاتی ہیں اور لڑکی لڑکے پر کچْے چاول پھینکتی جاتی ہیں ۔ لڑکی کے گھر والے غیر شرعی رسُوم کے مخالف تھے اس لئے منگنی ٹوٹ گئی ۔

ہم میں سے جو نماز پڑھتے ہیں وہ صرف فرض یا واجب رکعتوں میں ایک دن میں بیس مرتبہ اِھدِنَا صِرَاطَ المُستَقِیم کہتے ہیں جس کا مطلب ہے دِکھا ہم کو راہ سیدھی ۔ [اگر سُنتیں اور نفل بھی شامل کر لئے جائیں تو پانچ نمازوں میں 48 بار کہتے ہیں] ۔
کبھی ہم نے سو چا ہے کہ ہم مانگتے کیا ہیں اور کرتے کیا ہیں ؟

اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

تبصرہ جات (6)

حقیقی حُسن

ظاہری حُسن پہ نہ جائیے ۔ دھوکا ہو سکتا ہے

دولت پہ نہ جائیے ۔ ختم ہو جاتی ہے

پہچانئے اُسے جو آپ کو مسکراہٹ دے

مسکراہٹ تاریک دل کو بھی روشن بنا دیتی ہے

تلاش کیجئے اُسے جو آپ کے دل کو مسکراہٹ دے

تبصرہ جات (2)

قرآن اور ہمارے اطوار

دین کا مطلب ہے مسلک یعنی راستہ ۔ طریقہ ۔ دستور یا آئین ۔ دین اسلام زندگی گذارنے کا ایک مکمل راستہ ۔ طریقہ ۔ دستور یا آئین ہے ۔ قرآن اور حدیث میں ہر کام کے بنیادی اصول موجود ہیں ۔ مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہمارا ہر فعل [گھر یا بازار یا دفتر یا مسجد یا سفر میں کوئی جگہ بھی ہو] دین کے مطابق ہونا چاہیئے مگر ہم لوگوں نے سب کے الگ الگ طریقے اور راستے خود سے بنا لئے ہیں ۔ پھر جب ہمیں ناکامی ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری دین پر ڈال دیتے ہیں ۔

قرآن شریف کا ادب یہ ہے کہ ہم اسے اچھی طرح سمجھیں اور اس پر صحیح طرح عمل کریں لیکن ہم لوگ قرآن شریف کا ادب اس طرح کرتے ہیں کہ اسے چُومتے ہیں آنکھوں سے لگاتے ہیں اور مخمل میں لپیٹ کر اونچی جگہ پر رکھ دیتے ہیں ۔ ادب تو ہمیں تمام نافع علوم کا کرنا چاہیئے اور ایسی کتابوں کو سنبھال کر رکھنا چاہیئے ۔ نمائش کے لئے نہیں علم سیکھنے کے لئے ۔

ہم میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جنہوں نے قرآن شریف کو کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ بہت کم ہیں جنہوں نے ترجمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے بھی کم جو دین پر عمل کرنے کی کوشش کر تے ہیں ؟ ہم لوگوں نے قرآن و حدیث سے مبرّا [بعض مخالف] اصول خود سے وضع کر لئے ہوئے ہیں اور اُن پر عمل کر کے جنّت کے خواہاں ہیں ۔ کتنی خام خیالی ہے یہ

* ہم کلمہ پڑھتے ہیں “اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے پیامبر ہیں” لیکن اللہ اور اُس کے رسول کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا پسند نہیں کرتے
۔*۔ ہم اللہ کی بجائے اللہ کے بنائے ہوئے فانی انسانوں سے ڈرتے ہیں
۔*۔ ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ مُسلم بُت شکن ہیں مگر اپنے گھروں میں مُورتیوں سے سجاوٹ کرتے ہیں
۔*۔ ننانوے نام تو ہم اللہ کی صِفات کے گِنتے ہیں لیکن اپنی حاجات حاصل کرنے فانی انسانوں اور مُردوں کے پاس جاتے ہیں

۔*۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو 1400 سال سے زائد پرانے دین کو آج کی ترقّی یافتہ دنیا میں ناقابلِ عمل قرار دیتے ہیں

ہماری بے عملی کا نتیجہ ہے کہ آج غیر مُسلم نہ صرف مسلمانوں کو پاؤں نیچے روند رہے ہیں بلکہ کھُلم کھُلا توہینِ رسالت کرنے لگے ہیں فانی انسان کے بنائے ہوئے سائنس کے کسی فارمولے کو [جو قابلِ تغیّر ہیں] رَد کرنے کے لئے ہمیں سالہا سال محنت کرنا پڑتی ہے لیکن اللہ کے بنائے ہوئے دین کو رَد کرنے کے لئے ہمیں اِتنی عُجلت ہوتی ہے کہ اسے سمجھنے کی کوشش تو کُجا ۔ صحیح طرح سے پڑھتے بھی نہیں

اگر عربی نہ بھی آتی ہو پھر بھی قرآن شریف کی عربی میں تلاوت ثواب کا کام ہے اور روزانہ تلاوت برکت کا باعث ہے ۔ میرا خیال ہی نہیں تجربہ بھی ہے کہ اگر عربی میں بھی تلاوت باقاعدہ جاری رکھی جائے تو مطلب سمجھنے میں ممد ثابت ہوتی ہے ۔ لیکن کیا قرآن شریف صرف پڑھنے کے لئے ہے عمل کرنے کے لئے نہیں ؟

جو بات میری سمجھ میں آج تک نہیں آئی وہ یہ ہے کہ ویسے تو ہم قرآن شریف کو سمجھنا برطرف کبھی کھول کر پڑھیں بھی نہیں اور نہ اس میں لکھے کے مطابق عمل کریں مگر کسی کے مرنے پر یا محفل رچانے کے لئے فرفر ایک دو پارے پڑھ لیں اور سمجھ لیں کہ فرض پورا ہو گیا ۔

اللہ ہمیں قرآن شریف کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

تبصرہ جات (6)

عید کا دن ھے

eid mubarakدوستو عید کا دن ھے ۔ سوچ رھی ھوں کہ عید پر ھم سب ایک محفل مشاعرہ رکھتے ھیں جس میں اس بات کی قید ھو گی کہ اشعار میں عید کا حوالہ ھو اور عید کا زکر ضرور ھو چاھے کسی بھی طریقے سے ھو یعنی ھنس کر ھو یا افسردگی سے ھو ۔ اور اس پر کوئی پابندی نہیں کہ اشعار لکھنے والے کے اپنے ھی لکھے ھوئے ھوں ۔ اگر کسی کے اپنے لکھے ھوئے ھیں تو ضرور بتایئں تاکہ دل کھول کر داد دی جاسکے ۔ اور اگر کسی اور شاعر کے ھیں تو یاداشت پر ضرور زور ڈال کر شاعر کا نام بھی لکھ دیں تاکہ کہی بھی حوالہ دینے کے لیئے سہولت رھے۔
اور دوستو دوسری بات یہ کہ سب نے خوش ھونا ھے اور تنقید کسی پر نہیں کرنی چاھے شعر کیسا بھی ھو اور چاھے کسی دوست نے ایک ساتھ درجن اشعار ، کئی بار ھی کیوں نہ لکھے ھوں ۔
چلیئے جی سب سے پہلے میں عرض کرتی ھوں لیکن یہ اشعار میرے نہیں ھیں بلکہ سیما سراج صاحبہ کے ھیں۔

میں سوچتی ھوں رسم عبادت کہوں اسے
یا صرف ایک جشن مسرت کہوں اسے

آیئنہ دار دولت و ثروت کہوں اسے
یا اجتماع مہر و محبت کہوں اسے

سچ پوچھیئے عید سے ھم آشنا نہیں
ان زر خرید جلوؤں میں روح وفا نہیں

سج دھج میں اپنی حسن کے جلوے دکھایئں ھم
کھا پی کے خوب شاد رہیں مسکرایئں ھم

ہاں شوق سے یہ جشن مسرت منایئں ھم
لیکن نہ اس خوشی میں انہیں بھول جایئں ھم

جو ھہیں غریب ان کی بھی دید و شنید ھو
یہ عید بس ھماری نہیں سب کی عید ھو

تبصرہ جات (33)