Home / پاکستان / وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے استعفیٰ دے دیا

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ کے خلاف اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی جانی تھی لیکن اس سے قبل انہیں مستعفی ہونے کے مشورے دیئےگئے۔

وزیراعظم نے گزشتہ روز نواب ثناء اللہ زہری سے ملاقات کی تھی اور انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

وزیراعظم نے صوبائی قیادت سے استفسار کیا تھا کہ سیاسی صورتحال کو اس نہج پر کیوں پہنچنے دیا گیا؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ اسمبلی سے ووٹ کے ذریعے عدم اعتماد کے بجائے پہلے گھر چلے جانا بہتر ہے۔

وزیراعظم نے صوبائی قیادت کو موجودہ صورتحال میں متحد رہنے اور صوبے میں حکومتی معاملات بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے بھی ثناءاللہ زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا۔

صوبے میں سیاسی بحران اور وزیراعظم کے مشورے کے بعد نواب ثناءاللہ زہری نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور، کابینہ تحلیل

ثنااللہ زہری سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ کے ساتھ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کے پاس پہنچے جہاں انہوں نے اپنا استعفیٰٰ پیش کیا۔

ثناءاللہ زہری نے انتہائی مختصر استعفیٰ لکھا جس میں استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

گورنر بلوچستان نے نواب ثناءاللہ زہری کا وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ قبول کرلیا۔

گورنر بلوچستان نے استعفے کی کاپی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر سمیت چیف سیکریٹری اور دیگر کو بھی بھجوادی جس کے بعد اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دی گیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے استعفے کے ساتھ ہی صوبائی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ہے۔

نواب ثناءاللہ زہری کا بیان

استعفیٰ دینے کے بعد اپنے بیان میں نواب ثناءاللہ زہری نے کہا کہ ‘ محسوس ہورہا ہے کہ کافی تعداد میں اسمبلی اراکین میری قیادت سے مطمئن نہیں، میری خواہش ہے کہ بلوچستان میں سیاسی عمل جاری رہے، میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے صوبے کی سیاست خراب ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’زبردستی اقتدار سے چمٹے رہنا میرا شیوہ نہیں، میں زبردستی اپنے ساتھیوں پر مسلط نہیں ہوناچاہتا، اقتدار آنے جانے والی چیز ہے، عوام نےمناسب سمجھا تو میں ان کی خدمت جاری رکھوں گا‘۔

ثناءاللہ زہری کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت چلانا اتنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا اتحادیوں کا مشکور ہوں۔

نئے وزیراعلیٰ کیلئے 2 مضبوط امیدوار

ذرائع کے مطابق نواب ثناءاللہ زہری کے مستعفی ہونے کے بعد صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے لیے 2 مضبوط امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں صالح محمد بھوتانی اور جان محمد جمالی کے نام شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ صالح بھوتانی اور جان محمد جمالی کو اسمبلی کے اکثریتی اراکین کی حمایت حاصل ہے تاہم اب نئے وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ ایک دو روز میں ہونے کا امکان ہے۔

وزرا اور مشیر مستعفی ہوئے

صوبے میں سیاسی بحران کے بعد حکومت کے پانچ وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی نے استعفیٰ دیا تھا اور تمام کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے تھا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری نے اپنے ایک مشیر کو عہدے سے برخاست بھی کیا۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں سیاسی بحران کے حل کے لئے وزیراعظم گزشتہ روز کوئٹہ پہنچے تھے جہاں ان کے طلب کیے جانے پر مسلم لیگ (ن) کے اراکین ملاقات کے لئے نہ آئے جس کے بعد وزیراعظم نے کوئٹہ میں اپنا قیام طویل کیا اور وہ آج صبح واپس اسلام آباد پہنچے۔

بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک کی تاریخ

1970 میں بلوچستان ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بحیثیت صوبہ وجود میں آیا اور 1972 میں پہلی صوبائی اسمبلی تشکیل دی گئی اور اس وقت سے لے کر آج تک تین بار وزرائے اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے۔

ان وزرائے اعلیٰ میں میر تاج محمد جمالی مرحوم، سردار اختر جان مینگل اور موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری شامل ہیں۔

میر تاج محمدجمالی اور سردار اختر جان مینگل کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں جمع ہوئی تو وہ فوری طور پر وزارت اعلیٰ مستعفی ہوگئے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے