Home / شوبز / سارک ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی شروع کی جائے، میبل خان

سارک ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی شروع کی جائے، میبل خان

 دنیا بھرمیں مشترکہ پروڈکشن پرتوجہ دی جارہی ہے‘ نوجوانوں کی آمد سے انڈسٹری پر چھایابحران ختم ہورہا ہے، اداکارہ۔ فوٹو: نیٹ

 دنیا بھرمیں مشترکہ پروڈکشن پرتوجہ دی جارہی ہے‘ نوجوانوں کی آمد سے انڈسٹری پر چھایابحران ختم ہورہا ہے، اداکارہ۔ فوٹو: نیٹ

لاہور: خوبرو اداکارہ وماڈل میبل خان نے کہا ہے کہ سارک ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کا عمل بھی موجودہ دورکی ضرورت ہے۔ 

’’ایکسپریس‘‘سے گفتگوکرتے ہوئے خوبرو اداکارہ وماڈل میبل خان نے کہا کہ پاکستان فلم انڈسٹری میں نوجوان نسل کی آمد سے برسوں سے چھایا بحران ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔سارک ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کا عمل بھی موجودہ دورکی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثیرسرمایہ کاری کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر بھی اس محاذپرفلم میکرز کے ساتھ کھڑا ہے، جوکہ خوش آئند بات ہے۔

اداکارہ نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھربن رہے ہیں اورجہاں بھی کوئی اچھا پروجیکٹ بنتا دکھائی دیتا ہے، کارپوریٹ سیکٹراپنی خدمات پیش کرنے کیلیے سامنے آجاتا ہے،  یہی وہ آثار ہیں، جن کی بدولت پاکستان فلم انڈسٹری ترقی کی راہ پرآگے بڑھتی نظرآرہی ہے۔

میبل خان نے کہا کہ اس وقت ہماری فلم انڈسٹری کودوسرے ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کی اشد ضرورت ہے۔ بھارت، ایران، چائنہ اوردیگرمغربی ممالک کے ساتھ مل کر یا سارک ممالک کے ساتھ مشترکہ فلمسازی کا عمل بھی موجودہ دورکی ضرورت ہے۔ دنیا بھرمیں اس وقت کو پروڈکشن پرتوجہ دی جارہی ہے۔ اس سے دو بڑے فائدے ہوتے ہیں، ایک تودوممالک کے درمیان تعلقات مستحکم اورمضبوط ہوتے ہیں اوردوسرا دونوں ممالک کے لوگ جب مل کرکام کرتے ہیں تواس سے بہت کچھ سیکھنے کوملتا ہے، جومستقبل میں آگے بڑھنے کیلیے درست سمت کا تعین کرتا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے ہاں فلم میکنگ کے معیارمیں بہتری دکھائی دے رہی ہے اوربہت سے نوجوان فلم کے شعبے سے وابستہ ہورہے ہیں۔ دوسری جانب کوپروڈکشن کوفروغ دینے کیلیے ہمارے فلم میکرآجکل خاصے سرگرم ہیں، اس لیے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی فلم میں انقلابی تبدیلیاں رونماہونگی اوریہاں ہونے والا کام دنیا بھرمیں پسند کیاجائے گا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے