Home / کاروبار / سی پیک کے ساتھ ہیلتھ کوریڈور قائم کرنے کی تجویز

سی پیک کے ساتھ ہیلتھ کوریڈور قائم کرنے کی تجویز

چینی حکومت نے2030کے منصوبے میں صحت کے شعبے کوسرفہرست اسٹرٹیجک ترجیحات میں شامل کیا ہے، فائز عامر۔ فوٹو: فائل

چینی حکومت نے2030کے منصوبے میں صحت کے شعبے کوسرفہرست اسٹرٹیجک ترجیحات میں شامل کیا ہے، فائز عامر۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: عوام کے فائدے کیلیے سی پیک کے ساتھ چین پاکستان طبی راہداری (ہیلتھ کوریڈور) قائم کرنے کی تجویز۔

ایئر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایئر وائس مارشل (ر) فائز عامر نے کہا ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ تحفظ صحت اورلائف سائنسز کے شعبوں میں بے پناہ مواقع اور روابط کوفروغ دے گا۔

ایئر وائس مارشل (ر) فائز عامر فضائیہ میڈیکل کالج، ایئریونیورسٹی کے زیراہتمام 2 روزہ بین الاقوامی کانفرنس 2018۔LIFECON کی افتتاحی نشست سے خطاب کر رہے تھے جس میں سرجن جنرل آف پاکستان  لیفٹیننٹ جنرل زاہد حمید نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی جبکہ سابق وفاقی وزیر اور غیرمتعدی امراض کے بارے میں عالمی ادارہ صحت کے اعلیٰ سطح کے کمیشن کی معاون سربراہ ڈاکٹرثانیہ نشتر، پروفیسرڈاکٹرایئرونگ کیاں کی سربراہی میں چینی وفداورچین اورپاکستان کے دیگر طبی ماہرین بھی موجود تھے۔

وائس چانسلر نے دونوں ملکوں کے عوام کے فائدے کیلیے سی پیک کے ساتھ چین پاکستان طبی راہداری (ہیلتھ کوریڈور) قائم کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ مجوزہ راہداری مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کومضبوط بنانے کیلیے ایک موثرپلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ اس ضمن میں انھوں نے ایسے مختلف مشترکہ منصوبے شروع کرنے  پر زور دیا جن کامحور ہیلتھ کیئر مارکیٹ ہو۔

ایئر وائس مارشل (ر) فائز عامر نے کہاکہ صحت سے متعلقہ مسائل کے حل کیلیے بائیوانجنیئرنگ، انفارمیشن سروسز، ڈیٹااینالیٹکس اورسسٹم انجینئرنگ سے استفاد کرنے کی ضرورت ہے۔ چین دنیا میں سب سے بڑے موبائل ہیلتھ کیئرایپ آپریٹرزکاحامل ملک ہے اور چینی حکومت نے2030کے منصوبے میں صحت کے شعبے کوسرفہرست اسٹرٹیجک ترجیحات میں شامل کیاہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہاکہ آج کے صحت کے مسائل پرتحقیق اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے قابوپایاجاسکتاہے، ہمیں صحت کے عالمگیر نظام پرتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس کی کامیاب مثال چین میں موجود ہے۔

مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل زاہد حمید کانفرنس کے منتظمین کیکاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے مقررین، وائس چانسلرایئروائس مارشل (ر) فائز عامر، پرنسپل فضائیہ میڈیکل کالج میجرجنرل (ر) پروفیسر سلمان علی، ڈاکثرثانیہ نشتر، پروفیسر ڈاکٹر رضوان ہاشمی اور کو چیئر ڈاکٹر رخسانہ خان کو سووینئرزبھی دیے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے