Home / کاروبار / کراچی پورٹ پر 7 ہزار پرانی درآمدی کاریں پھنس گئیں

کراچی پورٹ پر 7 ہزار پرانی درآمدی کاریں پھنس گئیں

پورٹ حکام کوصورتحال سے نمٹنے میں مشکلات،حکومتی اقدامات سے مسئلہ پیداہوا، درآمدکنندگان۔ فوٹو: فائل

پورٹ حکام کوصورتحال سے نمٹنے میں مشکلات،حکومتی اقدامات سے مسئلہ پیداہوا، درآمدکنندگان۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  کراچی پورٹ پر7ہزار سے زیادہ پرانی درآمدی کاریں پھنس گئیں جبکہ اتنی ہی چند دن کے اندر پہنچنے والی ہیں جس سے پورٹ حکام کو صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

درآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ مسئلہ اکتوبر میں حکومت کی جانب سے کاروں کی درآمد کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوا۔

آل پاکستان موٹرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے کہا کہ ہم حکومت سے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے پالیسی ایشوز حل کرنے کی پہلے ہی درخواست کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت نے تجارتی خسارے میں اضافے کی وجہ سے اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں 356 ضروری اور اشیائے تعیش پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی تھی، اسی طرح استعمال شدہ کاروں کی درآمد کے لیے بعض رولز بھی تبدیل کیے گئے تھے جس سے درآمدکنندگان متاثر ہوئے۔

نئے رولز کے مطابق نئی اور استعمال شدہ کاروں کے مالکان یا مقامی وصول کنندگان کوڈیوٹیاں اور ٹیکسز ادائیگی کے ساتھ غیرملکی زرمبادلہ کی مقامی کرنسی میں منتقلی ظاہر کرنے کے لیے بینک ان کیشمنٹ سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔

ایچ ایم شہزاد نے کہاکہ حکومت کو استعمال شدہ کاروں کی درآمد کیلیے نئے رولز پر عملدرآمد سے قبل کوئی طریقہ بنانا چاہیے تھا، اب امپورٹرز کو پورٹ پر ڈیمریجز کی مد میں بھاری ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے