Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / کیا پاکستان کے غریب بھارت کے غریبوں سے زیادہ مالدار ہیں؟ سینیٹ کمیٹی

کیا پاکستان کے غریب بھارت کے غریبوں سے زیادہ مالدار ہیں؟ سینیٹ کمیٹی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے رکن نعمان وزیر نے پاکستان میں اسٹنٹ کے مہنگے داموں فروخت پر وزارت صحت کے حکام سے سوال کیا کہ کیا ہمارے ملک کے غریب بھارت کے غریبوں سے زیادہ مالدار ہیں؟

اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس سجاد طوری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کی جانب سے اسٹنٹ کے معیار اور قیمت پر بھی سوالات اٹھائے گئے، ارکان کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں غیر معیاری اسٹنٹ فروخت کیے جارہے اور ان کی رقم بھی زیادہ ہے۔

اجلاس کے دوران اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ دل میں ڈالے جانے والے اسٹنٹ پاکستان میں بھارت سے کئی گنا مہنگے فرخت ہو رہے ہیں، جس پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی جانب سے بریفنگ بھی دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 45 ہزار کا اسٹنٹ ڈیڑھ لاکھ روپے میں فروخت کیے جانے اور غیر معیاری اسٹنٹ کی فروخت کی شکایات سامنے آئیں تھی جبکہ اس کام میں سینئر ڈاکٹرز بھی ملوث پائے گئے تھے۔ اس صورتحال کے پیش نظر بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے اور اب ڈیڑھ لاکھ میں فروخت کیا جانے والا بغیر کوٹنگ والا اسٹنٹ 24 سے 40 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کوٹنگ والا اسٹنٹ اب 75 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار میں دستیاب ہے جبکہ اسٹنٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں کی رجسٹریشن کا نظام بھی بنایا گیا ہے۔

رکن کمیٹی نعمان وزیر کی جانب سے کہا گیا کہ بھارت میں باقاعدہ قانون سازی کے تحت بغیر کوٹنگ والے اسٹنٹ کی قیمت 7.260 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ پاکستانی روپے میں اسٹنٹ کی قیمت 10 ہزار روپے بنتی ہے۔ نعمان وزیر نے کہا کہ کوٹنگ والے اسٹنٹ کی قیمت بھارت میں 29 ہزار ہے جو پاکستانی روپے میں 39 ہزار روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ 10 ہزار کے بجائے 25 سے 40 ہزار اور 39 ہزار والے اسٹنٹ کی قیمت 1.20.000 ہزار کیوں مقرر کی گئی ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہمارے ملک کے غریب بھارت کے غریب سے زیادہ مالدار ہیں؟ انہوں نے ہدایت کی کہ اسٹنٹ کی قیمت انڈیا اور بنگلہ دیش کی مقررہ قیمت سے زائد نہ ہو اس بات کو یقینی بنایا جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں آئس کا نشہ بڑھتا جارہا شہر کے تمام اسپتال آئس کا نشہ کرنے والے بچوں سے بھرے پڑے ہیں اور یہ نشہ بچوں کو تباہ کر رہا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹس کی فروخت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں اور تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے سفارش کی کہ آئس کے نشے سمیت تعلیمی اداروں کے قریب سگریٹ کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے