Home / اہم ترین / ہم آئین نہیں سلطنت شریفیہ کا خاتمہ چاہتے ہیں، طاہر القادری

ہم آئین نہیں سلطنت شریفیہ کا خاتمہ چاہتے ہیں، طاہر القادری

 پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ معاشرے میں اتنی تقسیم و تفریق ہوچکی ہے کہ کسی معاملے پر مل بیٹھنے کا حوصلہ نہیں رہا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر متحدہ اپوزیشن کے احتجاجی جلسہ سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب آج سب کے اکٹھے ہونے میں میرا کمال نہیں، یہ کمال سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کی قربانیوں کا ہے، یہ کمال ہے ان معصوم بچوں بچیوں کاجن کی حفاظت کیلیے سب اکٹھے ہوئے۔

طاہر القادری نے کہا کہ آج ہم سب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے جمع ہوئے ہیں، سب کو بلانے کا مقصد اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا نہیں بلکہ سوئی ہوئے شعور کو جگانا اور بے آوازوں کو آواز دینا ہے۔

عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ انسانی حقوق کچلے جارہے ہیں اور قومی دولت لوٹی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ عدلیہ کو آزاد رکھنے اور ہر مظلوم کو انصاف دلانے اور ملک کو درندوں سے بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، قوم اٹھے اور پہچانے کہ دشمن کون ہے۔

طاہر القادری نے کہا کہ ہم اس ملک کے امن کو نہیں توڑنا چاہتے، اگر ایسا کرنا ہوتا تو نواز شریف اور شہباز شریف کو جاتی امرا سے باہر ایک قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی، چاہتے ہیں قانون عوام اور نوازشریف کے بچوں سب کے لیے برابر ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا شیوہ نہ توڑ پھوڑ ہے نہ جلاؤ گھیراؤ ہے، ہمیں قانون ہاتھ میں لینا ہوتا تو سانحات برداشت نہ کرتے، سلطنت شریفیہ کے جرائم کے خلاف آج جمع ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک بھائی کو عدلیہ نے نااہل کیا دوسرے بھائی نے 14 بے گناہوں پر فائرنگ کرائی، سپاہی سے لے کر آئی جی تک تقرر و تبادلہ ان کے ہاتھ میں ہے۔

طاہر القادری کے مطابق پوری دنیا میں ایک سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا نام کسی شخص کے نام پر ہو، کیا پاکستان سلطنت شریفیہ کے لٹیروں کیلیے بناتھا؟

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10سال میں ساڑھے 700 ارب روپے پنجاب پولیس کو دیے گئے، پولیس نے جاتی امرا کو تو تحفظ دیا لیکن غریبوں کو تحفظ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ سلطنت شریفیہ کا سیا سی لشکر ہے، انہوں نے دہشتگردی کا کلچر متعارف کیا ہے، انہیں امن سے دشمنی ہے۔

’جب چاہوں ان کو نکال سکتا ہوں‘

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میں جب چاہوں ان کو نکال سکتا ہوں اور اس میں مجھے بالکل دیر نہیں لگے گی۔

 ان کا کہنا تھا کہ ان کے منہ سے بڑے پھول جھڑتے تھے، ہم جمہوریت کی خاطر جواب نہیں دیتے تھے، لیکن اب یہ چاہتے ہیں جمہوریت کا سفر پورا نہ ہو۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ کے ساتھ ابھی ہوا کیا ہے؟ ہوا تو پیپلزپارٹی کے ساتھ ہے،ہوا تو قادری صاحب کے ساتھ ہے، ہم نے ہمیشہ پاکستان کھپے کہا، ہمیشہ پاکستان کی بات کی۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کو خطرہ اور کسی سے نہیں صرف جاتی امرا ہے، یہ چاہتے ہیں پاکستان کمزور ہوجائے۔

انہوں نے کہا کہ دعا اور دوا دینا ہم سیاسی لوگوں کا کام ہے، سیاست کریں لیکن ملک کے خلاف کوئی سیاست نہیں ہوتی۔

پاکستان عوامی تحریک کی زیر قیادت متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، اعتزاز احسن، لطیف کھوسہ، راجہ پرویز اشرف، نیئر بخاری اور  منظور وٹو سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

تحریک انصاف کی فردوس عاشق اعوان سمیت دیگر پارٹی رہنما اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان جلسہ گاہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ کچھ دیر بعد خطاب کریں گے۔

متحدہ اپوزیشن کے احتجاج میں عوامی تحریک، پیپلزپارٹی اور  تحریک انصاف کے کارکنان بڑی تعداد میں شریک ہیں۔

جلسے کے لیے پنجاب اسمبلی کے سامنے کنٹینر پر اسٹیج لگا گیا ہے، کارکنان کے لیے کرسیاں اور  لائٹیں لگائی گئی ہیں۔

جلسے کے لیے مال روڈ کے دونوں اطراف لائٹس کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جب کہ احتجاج کے باعث مال روڈ سے ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے۔

شاہراہ فاطمہ جناح،کچہری روڈ، ہال روڈ، کوپر روڈ، بوڑھ والا چوک اور ایجرٹن روڈ پر بھی ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔

 پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہےکہ شہبازشریف کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا۔

مصطفیٰ کمال کی لاہور آمد

ادھر پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال احتجاج میں شرکت کے لیے لاہور پہنچے ہیں۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ’ہم خاموش رہتے تو ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوتا‘۔

انہوں نے کہا کہ لاہور کے لوگوں پر گولیاں چلیں اور اس کا اثر کراچی تک ہوا لہٰذا کراچی کے لوگ بھی توقع رکھتے ہیں کہ ان پر ظلم و زیادتی ہو تو اس کی تکلیف بھی پورا پاکستان، بالخصوص پنجاب اور لاہور کے لوگوں کو بھی ہونی چاہیے۔

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھاکہ ماڈل ٹاؤن کے شہدا کی قربانیاں سے تمام پاکستانیوں کے جانوں کو بچائیں گے۔

سیکیورٹی انتظامات

ڈی آئی جی آپریشز لاہور ڈاکٹر حیدر اشرف کے مطابق جلسے کی سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں، سیکیورٹی کے لیے 6 ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں جب کہ 11 ایس پیز اور 24 ڈی ایس پیز بھی، 80 ایس ایچ اوز اور 60 انچارج انویسٹی گیشن بھی سیکیورٹی کے فرائض پر مامور ہیں۔

ڈاکٹر حیدر اشرف نے بتایا کہ جلسہ گاہ میں شرکت کے لیے 4 مقامات مقرر کیے گئے ہیں، شرکت کے لیے آنے والوں کی تین مقامات پر چیکنگ ہوگی۔

ڈی آئی جی کا کہنا ہےکہ ٹریفک کی روانی کے لیے بھی مؤثر حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، ناصرباغ، نیلاگنبد، باغ جناح اور پنجاب اسمبلی کے عقب میں پارکنگ بنائی گئی ہے، شہری ٹریفک وارڈنز کی ہدایات پر عمل کریں۔

رینجرز تعینات

پنجاب حکومت نے متحدہ اپوزیشن کے احتجاج کے موقع پر لاہور شہر میں رینجرز کو طلب کیا ہے، پنجاب اسمبلی سمیت دیگر اہم سرکاری عمارتوں پر رینجرز کی نفری تعینات کی گئی ہے۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کے موقع پر پولیس اہلکار غیر مسلح ہوں گے، جب تک مظاہرین سرکاری یا نجی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے تب تک طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 8 جنوری کو آل پارٹیز کانفرنس کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس بعد پریس کانفرنس کے دوران  17 جنوری سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے استعفے مانگیں گے نہیں، بلکہ لیں گے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا۔

اس موقع پر پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک اور 90 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جس کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ خان کو بے گناہ قرار دیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھان بین کے دوران یہ ثابت نہیں ہوا کہ وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر قانون فائرنگ کا حکم دینے والوں میں شامل ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے کی جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات بھی کرائی گئیں، جسے منظرعام پر نہیں لایا گیا تھا۔

جس کے بعد عوامی تحریک کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا، جس نے پنجاب حکومت کو مذکورہ انکوائری رپورٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔

ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کردیئے اور حکومت کے خلاف ایک گرینڈ اپوزیشن الائنس بنایا گیا

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے