Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / نیند کی کمی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث

نیند کی کمی ذہنی دباؤ اور پریشانی کا باعث

کیا آپ جانتے ہیں کہ نیند کی کمی آپ کی آنکھوں کے نیچے سیاہ دھبوں سے زیادہ نقصان کا باعث بن سکتی ہے؟ نیند کی کمی آپ میں ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، ان لوگوں میں منفی سوچ یا برے خیالات آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو8 گھنٹوں سے کم سوتے ہیں۔ یہ بات انسان میں نیند اور دماغی صحت کے آپس کے گہرے تعلق کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

محققین کے مطابق، کم نیند کی وجہ سے انسان کے دماغ میں منفی سوچ پیدا ہوجاتی ہے اور پھر یہ دوسرے لوگوں کی زندگی کو بدمزہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ ’بینگمٹن یونیورسٹی‘ کی ایک پروفیسر میریڈتھ کولز کے مطابق، منفی سوچ لوگوں کو پریشانی اور ذہنی دباؤ جیسی نفسیاتی بیماریوں کے لیے غیر محفوظ کر دیتی ہے۔

امریکہ کی ’نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن‘ کے مطابق، بےخوابی کے مریضوں کو اچھی نیند لینے والوں سے 10 گنا زیادہ ذہنی دباؤ جیسی بیماری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے، اگر کم سونا پریشانی اور ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے تو نیند کی کمی کو پورا کرنا ان وجوہات کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔

آپ خود ہی اپنے بارے میں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کو کتنی نیند کی ضرورت ہے۔ اگر آپ صبح اٹھنے کے بعد بھی تھکن محسوس کرنے ہیں تو شاید آپ کو مزید نیند کی ضرورت ہے۔

’نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن‘ کی عمر کے لحاظ سے نیند سے متعلق حالیہ سفارشات کے مطابق، سکول جانے والے (13-6 سال) کے بچوں کو 8-10 گھنٹے، نوجوانوں (17-14 سال) کو 8-10گھنٹے، بالغ لوگوں 26-64)سال) کو 97- گھنٹے اور عمر رسیدہ افراد (65سال سے زیادہ عمر) کو7-8 گھنٹے نیند لینی چاہیے۔

چائے، کافی، چاکلیٹ اور سگریٹ جیسی اشیا بھی اچھی نیند میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔ ان چیزوں کا استعمال سونے سے 4 گھنٹے پہلے ترک کر دینا چاہیے۔ روز ایک ہی وقت سونے سے بھی نیند لینے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔

سونے سے پہلے نہانا، کمرے میں خاموشی اور اندھیرا رکھنا اور سونے کے کمرے میں درجہ حرارت کم رکھنا اچھی نیند کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

آج کل سمارٹ فون، آئی پیڈ اور نوٹ بک کی طرح کے آلات نے زندگی بہت مصروف کر دی ہے۔ کچھ لوگ سونے سے پہلے بستر پر اور نیند کے دوران آنکھ کھلنے پر سوشل میڈیا، یعنی فیس بک، یوٹیوب، ٹویٹر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں جو کم نیند کی ایک وجہ بن رہی ہے۔

اگر ہو سکے تو اپنے فون اور اس جیسے دوسرے آلات کو اپنی آنکھوں سے دور رکھ کر سونے کی کوشش کریں۔ یہ طریقہ اچھی اور مسلسل نیند کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے