Home / عالمی حالات / ٹرمپ کا بدنام زمانہ گوانتانامو بے جیل دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا بدنام زمانہ گوانتانامو بے جیل دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ

 واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدنام زمانہ ’گوانتانامو بے جیل‘ دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں بدنام زمانہ گوانتاناموبے جیل دو دوبارہ کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گوانتا ناموبے جیل کو دوبارہ فعال کرنے کے حوالے سے ایگزیکٹیو آرڈ پر دستخط کردیے ہیں اور امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس جیل کو دوبارہ کھولنے سے متعلق جائزہ لیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ کیوبا میں قائم گوانتانامو بے جیل دوبارہ فعال کرکے اپنا ایک اور وعدہ پورا کررہے ہیں جب کہ ماضی میں داعش کے سربراہ ابو بکر البغادی سمیت سیکڑوں کی تعداد میں خطرناک دہشت گردوں کو آزاد کرنا بہت بڑی بے وقوفی تھی، ہم نے ان دہشت گردوں کو آزاد کیا اور آج وہ ہمارے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ دہشت گرد صرف مجرم نہیں بلکہ وہ جنگجو دشمن ہیں لہذا انہیں حراست میں لینے کے بعد ان کے ساتھ دہشت گردوں والا سلوک ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں انہیں پوری قوت فراہم کریں تاکہ دہشت گرد جہاں بھی ہوں ان کا پیچھا کرکے انہیں حراست میں لیا جائے اور گوانتانامو بے میں ڈالا جائے۔

واضح رہے سابق امریکی صدر جارج بش نے 2002 میں بدنام زمانہ گوانتانامو بے جیل کیوبا میں قائم کی تھی اور اس میں 779 قیدیوں کو رکھا گیا تھا جب کہ سابق صدر بارک اوباما نے سیکڑوں قیدیوں کو آزاد اور دیگر جیلوں میں منتقل کردیا تھا مگر وہ اپنے دور حکومت میں جیل کو مکمل طور پر بند کرنے میں ناکام رہے تھے اور ستمبر 2017 تک گوانتانامو بے میں 41 قیدی موجود تھے۔ ادھر ٹرمپ نے اپنی صدراتی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ وہ اس جیل کو دہشت گردوں سے بھردیں گے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے