Home / شوبز / جاوید اختر نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی کا مطالبہ کردیا

جاوید اختر نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی کا مطالبہ کردیا

صرف مساجد میں کیوں شادیوں اور سیاسی اجتماع پر کیوں نہیں، صارف کی تنقید ؛ فوٹوفائل

صرف مساجد میں کیوں شادیوں اور سیاسی اجتماع پر کیوں نہیں، صارف کی تنقید ؛ فوٹوفائل

ممبئی: نامور بھارتی ادیب و شاعر جاوید اختر نے گلوکار سونونگم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔

گزشتہ برس گلوکار سونو نگم نے ٹویٹر پر اذان کو شور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں لیکن پھر بھی ہمیں روزصبح اذان کی آواز سے بیدار ہونا پڑتا ہے، آخر بھارت میں یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی۔ سونو نگم کے ان ٹوئٹس کی وجہ سے بھارت میں مساجد پر لاؤڈ اسپیکرز ہونے یا ہونے کے حوالے سے بہت بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا یہاں تک کہ سونونگم کو دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے لیے معافی مانگنی پڑی تھی اور اب نامور بھارتی ادیب و شاعر جاوید اختر نے سونونگم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کی مخالفت کردی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: سونو نگم کی اذان سے متعلق توہین آمیز ٹویٹس

جاوید اختر نےاپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’میں سونو نگم سمیت ان تمام لوگوں کی اس بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ رہائشی علاقوں میں موجود مساجد اور عبادت کرنے والی  تمام جگہوں پر لاؤڈ اسپیکرز استعمال نہیں ہونے چاہئیں ۔‘‘

جاوید اختر کے اس ٹویٹ  نے حسب توقع  ایک بار پھر مسلمانوں اور ان  سے محبت کرنے والے لوگوں کے غصے کو ہوا دی ہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان کے ٹوئٹ پر سخت مشتعل ہیں۔ آشیش کمار نامی ٹویٹر صارف نے جاوید اختر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ویسے تو آپ کی اس ٹویٹ سے ہی آپ کے دل کا حال پتہ چل گیا تھا لیکن دیگر ٹویٹس دیکھ کر معلوم ہوگیا کہ آپ کتنے منافق انسان ہیں۔

اس کے جواب میں جاوید اخترنےنہایت ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا ’’میں ہر غلط بات کے خلاف آواز اٹھاتا ہوں، مشکل یہی ہے کہ آپ دوسروں کی غلطی مان سکتے ہیں مگر اپنی نہیں۔‘‘

ایک اور صارف نے نہات سخت الفاظ میں جاوید اختر پر تنقید کرتے ہوئے کہا صرف عبادت گاہوں میں کیوں؟ رات میں ہونے والی شادیوں اور سیاسی اجتماعوں میں لاؤڈاسپیکرز پر پابندی کیوں نہیں ہونی چاہئے کیا آپ کے پاس اس کا کوئی جواب ہے۔‘‘

سید شجاع نامی صارف نے کہا ’’بحیثیت مسلمان مجھے لاؤڈ اسپیکر اورکسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی سے کوئی مسئلہ نہیں ، میں تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں کیونکہ تمام مذاہب کی اپنی تاریخ ہے اور ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرے۔ میں ان تمام لوگوں سے درخواست کرتا ہوں جو شہرت کے بھوکے ہیں کہ مہربانی کرکے مذہب کو ان سب چیزوں سے دور رکھیں۔‘‘

ایک صارف نے چند جملوں میں مکمل بات کہتے ہوئے کہا ’’صرف مسجد کیوں ہر وہ جگہ کیوں نہیں جہاں سے شور بلند ہوتا ہے۔‘‘

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے