آرمی چیف نے 7 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 7 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دہشت گرد معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج پر حملوں میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد 85 افراد کے قتل اور 109 افراد کو زخمی کرنے میں ملوث رہے، ان کے قبضے سے بارودی مواد اور اسلحہ بھی برآمد ہوا جبکہ ان کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا گیا۔دہشت گردوں میں اطلس خان، محمد یوسف خان، فرحان، کالے خان، نذر مون، نیک مائیل خان اور اکبر علی شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا۔یاد رہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں آئینی ترمیم کے تحت 7 جنوری 2015 کو کیا گیا اور اب تک کئی مجرموں کو ان کے ذریعے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔گزشتہ برس 7 فروری کو فوجی عدالتوں کو دیے گئے خصوصی اختیارات ختم ہو گئے تھے جس کے بعد مارچ میں پہلے قومی اسمبلی اور پھر سینیٹ نے فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع کے لیے آئینی ترمیم کا بل دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔فوجی عدالتوں کو توسیع کی مدت میں تاخیر ہوئی، بعدازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے توسیع کا معاملہ مارچ 2017 میں اٹھایا۔فوجی عدالتوں کی توسیع کی مدت 2019 میں ختم ہوگی۔ذرائع کے مطابق فوری انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، تاہم اس حوالے سے تاحال کچھ نہیں کیا گیا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 56 دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا، سزا پانے والے 43 دہشت گردوں کو آپریشن ردالفساد کے بعد پھانسی دی گئی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں