Home / کاروبار / لوڈشیڈنگ کیلیے وفاقی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، کے الیکٹرک

لوڈشیڈنگ کیلیے وفاقی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، کے الیکٹرک

جہاں چوری زیادہ وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوگی،60فیصدعلاقوںکوبلاتعطل فراہمی جاری ہے۔ فوٹو؛ فائل

جہاں چوری زیادہ وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ ہوگی،60فیصدعلاقوںکوبلاتعطل فراہمی جاری ہے۔ فوٹو؛ فائل

اسلام آ باد۔:  کے الیکڑک نے اپنے زیر انتظام علاقوں میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات کم کرنے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور رواں سال کے اختتام تک نقصانات کی شرح کم کرکے 7 فیصد تک لائی جائے گی، کے الیکڑک کے 60 فیصد علاقے لوڈشیڈنگ فری ہوچکے ہیں۔

کے الیکڑک کے چیف کمیونیکیشن آفیسر فخر احمد نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایاکہ کے الیکڑک انتظامیہ نے لائن لاسزکوکنٹرول کرنے اور ان میں مزیدکمی لانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت رواں سال کے اختتام تک کمپنی کے زیر انتظام علاقوں میںنقصانات کی شرح کم کرکے 7 فیصد تک لائے جائیں گے، 2009 سے اب تک بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات میں 13.07 فیصد کمی لائی گئی ہے۔

فخر احمد نے بتایاکہ ترسیل و تقسیم کے نقصانات میں کمی لانے اور بجلی چوری روکنے کیلیے کے الیکڑک کے زیر انتظام علاقوں میں ایریل بنڈلڈکیبلز کا نظام متعارف کرایا گیاہے جس کے حوصلہ افزانتائج برآمد ہوئے ہیں،61 فیصد علاقوں کو لوڈشیڈنگ فری کر دیا گیا ،39 فیصد علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاری ہے جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہوگی اور ریکوریز کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی وہاں پر وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت لوڈشیڈنگ کی جائے گی۔

چیف کمیونیکیشن آفیسر نے بتایاکہ اس وقت کے الیکڑک کا بجلی کا شارٹ فال 300 میگاواٹ ہے جس کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں،بجلی کی طلب 3 ہزار 200اور دستیاب بجلی 2ہزار 100 میگاواٹ ہے، 2009 سے اب تک کے الیکڑ ک نے 1ہزار 57 میگاواٹ بجلی سسٹم میں داخل کی ہے۔

فخر احمد نے بتایاکہ مختلف اداروں کے ادائیگیاں نہ کرنے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اب بھی مختلف اداروں نے کے الیکڑک کو 90 ارب روپے سے زائد کے واجبات اداکرنے ہیں، کراچی واٹرا ینڈ سیوریج کے الیکڑک کا سب سے بڑا نادہندہ ہے جس کے ذمے 45 ارب روپے کے واجبات ہیں،کمپنی کو مختلف اداروں کو 2 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کرنی ہیں، نجکاری کے بعد کے الیکڑک نے 1ارب 20 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے نظام میں بہتری آئی ہے۔

چیف کمیونیکیشن آفیسر نے بتایاکہ پارلیمنٹ ہاؤس کی طرز پر وزیر اعلی اور گورنر سیکریٹریٹ میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کیلیے ایک منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں،بجلی کی سالانہ طلب میں 5 سے 7 فیصد یا 150 سے 170 میگاواٹ کا اضافہ ہورہاہے۔

فخر احمد نے مزید بتایاکہ کے الیکڑک انتظامیہ قلندرآبادگلشن جناح سمیت دیگر علاقوں میں عوام کے تعاون سے کنڈاکلچر کا خاتمہ کیا ہے اور کے الیکڑک کی کوششوں سے ان علاقوں سے بجلی چوری کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے