Home / شوبز / کنگنا نے انتہاپسندوں کے احتجاج پر خاموشی توڑدی

کنگنا نے انتہاپسندوں کے احتجاج پر خاموشی توڑدی

 مجھے یقین ہے کہ لوگ فلم دیکھنے کے بعد فخر محسوس کرے،کنگنا رناوت۔ فوٹو: فائل

مجھے یقین ہے کہ لوگ فلم دیکھنے کے بعد فخر محسوس کرے،کنگنا رناوت۔ فوٹو: فائل

 ممبئی: بالی ووڈ کی اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنی نئی فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘  کے خلاف انتہا پسندوں کے احتجاج پر خاموشی توڑ دی۔

سیکولر ملک کا دعویٰ کرنے والے بھارت میں آئے دن مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی تو دیکھنے میں آتی ہیں لیکن اب بالی ووڈ کی فلمیں بھی انتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں حال میں فلم ’پدماوت‘ کو بھارتی انتہا پسندوں کے شدید مظاہروں کے بعد عدالت کے حکم پر ریلیز کیا گیا لیکن اب انتہا پسند کنگنا رناوت کی فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘ کے پیچھے پڑگئے جس پر اداکارہ نے خاموشی توڑ دی۔

بھارتی میڈیا رپوٹس کے مطابق بالی ووڈ کی صف اول اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنی فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘ کے خلاف مظاہرے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں کچھ بھی متنازع نہیں اور یہ ہماری بدنصیبی ہوگی کہ ہم فلم میں ایسی خاتون کو متنازع بنانے کا سوچیں جس نے برطانویں سامراجوں کے خلاف ملک کے خاطر اکیلے جنگ لڑی۔

کنگنا نے کہا کہ مہارانی لکشمی بائی بھارت کی وہ رانی تھیں جنہوں نے ملک کو سامراجوں سے آزاد کرانے کے لئے اپنی جان دی جب کہ فلم میں کسی طرح کی بھی کوئی پیار کی کہانی نہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ لوگ فلم دیکھنے کے بعد فخر محسوس کریں گے۔

واضح رہے کہ کرش کی ہدایت کاری میں بننی والی فلم ’مانی کرنیکا؛ دی کوئن آف جھانسی‘ میں کنگنا رناوت مرکزی کردار ادا کررہی ہیں جبکہ فلم جون 2018 میں سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے