Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / صحت اور ٹیکنالوجی کا تابناک مستقبل

صحت اور ٹیکنالوجی کا تابناک مستقبل

ایک عام دکھنے والے کاغذ کے ٹکڑے سے آپ پانی کی آلودگی جانچ سکیں اور آپ کا موبائل فون آپ کی صحت کا جائزہ لے کر بتا سکے کہ آپ کو کیا بیماری لاحق کیا ہے۔۔۔ یہ ہے صحت اور ٹیکنالوجی کا مستقبل۔

پہلے بات کرتے ہیں صاف پانی کی۔ دنیا میں دو ارب سے زائد لوگوں کو صاف پانی تک رسائی دستیاب نہیں؛ اور بہت سی جگہوں پر جہاں صرف نام کا صاف پانی موجود ہے اس میں بھی کئی ایسے بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پانی میں بیکٹیریا کی موجودگی کا پتا چلانا آسان تجزئے کے ذریعے ممکن ہے۔ لیکن، یہ ٹیسٹ متاثرہ علاقوں میں غریب لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ اس مشکل کا حل برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ میں سائنسدانوں نے نکالا ہے ایک سستے اور سادہ آلے کی شکل میں جو موقعے ہی پر سیکنڈوں میں پانی کا تجزیہ کرکے بتا سکے گا کہ پانی پینے کے قابل ہے یا نہیں۔

یہ آلہ ایک کاغذ پر بائیو فلم نامی مایع کی تہہ کے نیچے پرنٹ ہونے والے کاربن پر مبنی الیکٹروڈز پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ آلہ ایک الیکٹرک چارج پیدا کرتا ہے جسے ایک کرنٹ ناپنے والے کسی بھی آلے سے ناپا جاسکتا ہے۔ آلے کو استعمال کرنے سے پہلے اس کا کرنٹ چیک کریں۔ پھر اسے کسی بھی جگہ پانی میں ڈالیں اور الیکٹرک چارج کے سگنل میں ہونے والی تبدیلی کو چیک کریں۔ اگر سگنل نہیں بدلتا تو پانی پینے کے قابل ہے اور اگر کم ہوگیا تو اس کا مطلب یہ ہے پانی آلودہ ہے۔

اور اگر آپ کے پاس کرنٹ ناپنے والا آلہ نہیں تو کوئی بات نہیں۔ آپ کا موبائل فون آپ کے لیے یہ کام کر سکتا ہے، کیونکہ کاغذ کے سینسرز کو موبائل فون کے ذریعے بھی چیک کیا جاسکتا ہے۔

اور جلد ہی آپ کا موبائل فون آپ کے جسم کو سکین کرکے یرقان اور کینسر جیسی بیماریوں کی تشخیص بھی کرسکے گا۔ بس آپ نے اپنی آنکھ کی ایک سیلفی لینی ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن میں ریسرچرز ’بلی سکرین‘ نامی ایک ایپ تیار کر رہے ہیں جو آنکھ میں پائے جانے والے مادے ’بلی ریوبین‘ کی مقدار ناپ سکتی ہے اور بائی لیروبین کی مقدار یرقان کی موجودگی کا پتا دیتی ہے۔ اس ایپ پر کام بنیادی طور پر لبلبے کے کینسر کو سکرین کرنے کے لیے کیا گیا۔ لیکن، بائی لیروبین کی مقدار سے کینسر اور دیگر بیماریوں کی تشخیص بھی کی جا سکتی ہے۔

لیکن، یہ ہوتا کیسے ہے؟ بلی سکرین ایپ بلی ریوبین نامی مادے کی مقدار پر ایک الگورتھم کے ڈیٹا پر کام کرتی ہے اور اس میں کمی بیشی سے بیماری کی تشخیص کرتی ہے۔ جتنی زیادہ آنکھوں کی تصاویر اس میں لی جائیں گی اتنا ہی اس کا ڈیٹا بڑھے گا اور درست تشخیص بھی۔ فی الحال یہ ایپ 90 فیصد درستگی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور وقت کے ساتھ اس کی افادیت میں اضافہ ہی ہوگا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے