Home / عالمی حالات / بھارتی جوڑے نےکالاجادو کرنےکےلیے3 ماہ کی بچی کی’بلی چڑھادی‘

بھارتی جوڑے نےکالاجادو کرنےکےلیے3 ماہ کی بچی کی’بلی چڑھادی‘

حیدرآباد : بھارتی شہرحیدرآباد میں شادی شدہ جوڑے نے’کشودرا پوجا‘ کرنے کے لیے اغوا کی جانے والی تین ماہ کی بچی کی بلی چڑھا دی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی شہرحیدرآباد میں تانترک کے کہنے پر شادی شدہ جوڑے نے اپنی قسمت بدلنے کے لیے اغوا کی جانے والی 3 ماہ کی بچی کی بلی چڑھا دی۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق کے راجشیکر نے 31 جنوری کو 3 ماہ کی بچی کو حیدرآباد کے علاقے بویا گودا میں سڑک کنارے سے اغوا کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ راجشیکر اور اس کی بیوی نے 31 جنوری کی رات کو ’کشودرا پوجا‘ کرنے کے لیے 3 ماہ کی بچی کی بلی چڑھائی۔

پولیس کمشنرمہیش ایم بھگت کے مطابق بچی کے اغوا ہونے کے بعد پولیس نے 122 افراد کا فون ریکارڈ نکالا جن میں راجشیکر بھی شامل تھا جو اس وقت بویاگودا کےعلاقے میں موجود تھا۔

مہیش ایم بھگت نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے شک کی بنا پرٹیکسی ڈرائیور راجشیکر کے گھر کی تلاشی کی تو اس دوران انہیں اس کے کمرے سے خون کے قطرے ملے جو بچی کے ڈی این اے سے میچ ہوگئے۔

بعدازاں راجشیکر نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ سب ایک تانترک کے کہنے پر کیا۔

یاد رہے کہ یکم جنوری 2015 کو بھارت میں تانترک کے کہنے پردو بھائیوں نے اپنی قسمت بدلنے کے لیے ماں کی بلی چڑھا دی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے