Home / کاروبار / ایف بی آر نے 49 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 16 ارب مانگ لیے

ایف بی آر نے 49 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 16 ارب مانگ لیے

ٹریڈ فیسلٹیشن سینٹرز،انٹیگریٹڈٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے،دستاویز۔ فوٹو : فائل

ٹریڈ فیسلٹیشن سینٹرز،انٹیگریٹڈٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے،دستاویز۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاک ایران سرحد پر کسٹمز ہائوس کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایف بی آر نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پاک ایران سرحد پر کسٹمز ہائوس سمیت مجموعی طور پر 49 منصوبوں کیلیے 16 ارب 15 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مانگ لیا۔

ایف بی آر نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں مجموعی طور پر 49 منصوبوں کیلیے 16 ارب 15 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ مانگا ہے جس کے تحت گوادر کے قریب گبد پوائنٹ پر کسٹمز ہائوس منصوبے کیلیے 10 کروڑ روپے کا بجٹ مانگا ہے جبکہ اس منصوبے پر 46 کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئے گی۔ ایف بی آر نئے مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کیلیے 10 ارب روپے بیرونی وسائل سے حاصل کرنے کا تخمینہ بھی لگایا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 2018-19 کے دوران 44 نئے منصوبوں کیلیے فنڈز مانگے ہیں۔ نئے بجٹ میں ایف بی آر نے صرف 5 جاری ترقیاتی منصوبوںکیلیے ایک ارب 85 کروڑ روپے مانگے ہیں۔ اسی طرح منظورشدہ نئے منصوبوں کیلیے 96 کروڑ روپے جبکہ 19 غیر منظور شدہ نئے منصوبوں کیلیے 3 ارب 35 کروڑ روپے کے فنڈز مانگے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی میں انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن آفس کی تعمیر کیلیے 15 کروڑ روپے، سی پیک روٹ سے متصل کسٹمز چیک پوسٹوں کیلیے اراضی کی خریداری منصوبے کیلیے 80 کروڑ روپے، گلگت میں سی پیک ٹریڈ فیسلٹیشن کیلیے ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزٹ ٹریڈ کی تعمیر کیلیے 25 کروڑ روپے، سی پیک روٹ پر ٹرانزٹ ٹریڈ فسیلٹیشن سینٹر کی اراضی کی خریداری منصوبے کیلیے ایک ارب 32 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح سرگودھا میں ریجنل ٹیکس آفس کی تعمیر کیلیے 20 کروڑ روپے اورایف بی آر ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کیلیے اضافی زمین کی خریداری کیلیے 4 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ان لینڈ ریونیو آفس کے قیام کے منصوبے کیلیے اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ریجنل ٹیکس آفس اسلام آباد کی تعمیر کیلیے 50 کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔ دستاویز کے مطابق زونل آفس صوابی کے قیام کیلیے زمین کی خریداری کیلیے 3 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ کوہاٹ میں زونل آفس اور جھنگ میںان لینڈ ریونیو کے دفاترکی عمارتوں کی تعمیر کیلیے بالترتیب ساڑھے 3 کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔

دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے بارڈر سروس کو بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ ٹریڈ منیجمنٹ سسٹم کیلیے ایف بی آر نے اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں مقامی وسائل سے 50 کروڑ روپے فراہم کرنے کی تجویز دی ہے۔

 

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے