Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / ’کائی‘ سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ

’کائی‘ سے بجلی پیدا کرنے کا کامیاب تجربہ

’ایلجی‘ یعنی ’کائی‘ کا شمار سادہ ترین پودوں میں ہوتا ہے۔ ان کی جڑ، تنا اور پتے نہیں ہوتے۔ کائی جب پانی پر جمتی ہے تو اس کی بو ناگوار ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ زہریلی بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن، یہ ’ایلجی‘ ایک زندہ پودہ ہے جو عام پودوں کے ضیائی تالیف کے عمل سے بھی گزرتا ہے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسی عمل کی مدد سے ایلجی سے توانائی پیدا کی ہے۔

ماہرین نے زندہ ایلجی پر مشتمل ایک ایسا فیول سیل بنایا ہے جو خود رو ہے۔ اپنے آپ کو ضرورت کے لحاظ سے ڈھال سکتا ہے اور آج کی طاقتور ترین بیٹریوں سے بھی زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق، ایلجی کے ایک مربع میٹر سے آدھا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جس کے لیے سائنسدانوں نے ایسے سیل بنائے ہیں جو ضیائی تالیف کے عمل کی نقل کرتے ہیں، یعنی عین اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح پودے سورج کی روشنی سےتوانائی بناتے ہیں۔ اس عمل کے دو مرحلے ہیں۔ اول چارجنگ جس میں روشنی سے الیکٹران بنتے ہیں اور دوم، توانائی کی ترسیل جس میں الیکٹرانوں کو برقی سرکٹ کے اندر بھیجا جاتا ہے۔

توانائی پیدا کرنے کے لیے بیٹریوں سے زیادہ مؤثر ایلجی






please wait




No media source currently available

اِسی طرح، جیسے ایک بیٹری میں ’الیکٹرانز‘ کو منفی سے مثبت کے ایک برقی سرکٹ کے اندر ’الیکٹروڈز‘ کے استعمال سے حرکت دی جاتی ہے اور اس حرکت سے بجلی پیدا کی جاتی ہے، جس سے ایک موبائل اور کمپیوٹر وغیرہ چلائے جا سکتے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی میں چارجنگ کے عمل میں ’ایلجی‘ کو دھوپ میں رکھنا ہوتا ہے، جبکہ توانائی کی منتقلی کے لیے سورج کی روشنی درکار نہیں ہوتی۔ توانائی جمع کرنے کے عمل میں وہ بہت کم ضائع ہوتی ہے جو اس پورے عمل کو باکفایت بناتی ہے۔ کائی سے بنے یہ سیل شمسی توانائی کو بہترین طریقے سے استعمال میں لاکر بجلی پیدا کرتے ہیں۔

کیمبرج کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ایسے ممالک کے لیے کارآمد ہے جہاں سورج بھرپور انداز میں چمکتا ہو، لیکن بجلی کا بحران ہو۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے