احتساب عدالت کو شریف خاندان کیخلاف ٹرائل مکمل کرنے کیلیے مزید ایک ماہ کی توسیع

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت مکمل کرنے کی ملہت میں توسیع کے لیے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی درخواست کی سماعت کی۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹرائل مکمل کیوں نہیں ہوا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایک ریفرنس میں ٹرائل مکمل ہو چکا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 3 ماہ کا وقت مانگتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کا وقت کم ہے اور ابھی رمضان بھی شروع ہورہے ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد احتساب عدالت کو شریف خاندان کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے لیے مہلت میں ایک ماہ کی توسیع دیدی جس کے بعد احتساب عدالت کو ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 9 جون تک مزید وقت مل گیا ہے۔

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کے ٹرائل کا آغاز 14 ستمبر 2017 کو ہوا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں بھی احتساب عدالت کی جانب سے درخواست پر سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی کارروائی مکمل کرنے کی ڈیڈلائن میں 2 ماہ کی توسیع کی تھی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے کر نیب کو شریف خاندان کے خلاف مقدمات درج کرنے اور 6 ماہ میں ان کیسز کا فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں