Home / عالمی حالات / افغان فضائیہ کے مدرسے پر حملے میں 30 بچے جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ کی تصدیق

افغان فضائیہ کے مدرسے پر حملے میں 30 بچے جاں بحق ہوئے، اقوام متحدہ کی تصدیق

سان فرانسسكو: اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایک ماہ قبل افغان فضائیہ کی بمباری میں جاں بحق ہونے والے بچے ایک مدرسے کے طالب علم تھے اور حملے کے وقت مدرسے میں مذہبی تقریب جاری تھی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ دی ہے کہ قندوز کے مضافات میں ایک مدرسے پر بمباری کے نتیجے میں  معصوم بچوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ فضائی حملے میں 36 افراد ہلاک ہوئے جن میں 30 کم عمر بچے تھے جب کے 71 افراد زخمی ہوئے۔ افغان حکومت نے راکٹ اور خود کار ہتھیاروں سے مدرسے پر گولیاں برسائیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ واقعے سے متعلق 90 سے زائد عینی شاہدین سے بات چیت کی گئی جنہوں نے بتایا کہ جنگی ہیلی کاپٹروں نے ضلع ارچی کے معروف مدرسے میں منعقدہ ‘دستار بندی’ کی تقریب پر 12 راکٹ داغے اور ہیوی مشین گنوں سے فائرنگ کی۔ تقریب میں کم عمر بچوں سمیت بزرگ اور نوجوان بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 2 اپریل کو ایک مدرسے پر فضائی بمباری کے نتیجے میں 200 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ افغان صدر نے بھی واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات کی یقن دہانی کرائی تھی۔ واقعے میں بڑی تعداد میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی خبر نےعالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا جس کے بعد اقوام متحدہ نے تحقیقات کا عندیہ دیا تھا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے