Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / امریکہ میں سلاد کھانے سے ایک شخص ہلاک ،121 بیمار

امریکہ میں سلاد کھانے سے ایک شخص ہلاک ،121 بیمار

امریکی محکمہ صحت کے حکام نے سلاد کے پتے میں ایک مخصوص بیکٹیریا سے ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے قبل خبروں میں بتایا گیا تھا کہ’ رومین لیٹس ‘نامی سلاد کے پتے کھانے سے امریکہ کے مختلف حصوں میں 121 افراد بیمار ہو گئے تھے جنہیں علاج معالجے کے لیے اسپتال داخل ہونا پڑا تھا۔

سلاد کے پتے کھا نے سے ہلاک ہونے والے شخص کے بارے میں فوری طور پر اس کے سوا کچھ نہیں بتایا گیا کہ یہ ہلاکت کیلی فورنیا میں ہوئی ۔

پچھلے مہینے امریکی حکام نے ایک غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کو یہ ہدایت دی کہ اگر انہوں نے کہیں سے بھی رومین لیٹس خریدا ہے تو اسے فوراً پھینک دیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ وہ یہ سلاد اس وقت تک استعمال نہ کریں جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ اسے ریاست ایری زونا کے علاقے یوما میں نہیں اگایا گیا تھا۔

صحت کی دیکھ بھال اور بیماریوں کی روک تھام کے عہدے داروں کو ابھی تک یہ علم نہیں ہو سکا ہے کہ ایری زونا کے ایک زرعی فارم میں پیدا ہونے والے سلاد کا ’ ای کولی‘نامی بیکٹیریا سے کیا تعلق ہے۔

تاہم ماہرین اس علاقے کے دو درجن فارموں کا معائنہ کر رہے ہیں اور ان کی پیداوار کے نمونوں کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ای کولی نامی مخصوص بیکٹیریا کا حملہ بہت شديد ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں زیادہ تر مریضوں کو اسپتال داخل ہونا پڑتا ہے۔

بیماریوں کی روک تھام کے مرکز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اندراج کیے گئے 102 مریضوں میں سے 52 کو بیماری کی شدت کے باعث اسپتال داخل ہونا پڑا جن میں سے 14 گردے فیل ہونے کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔

اس سے پہلے امریکہ میں ای کولی بیکٹیریا نے 2006 نے وبائی شکل اختیار کی تھی۔ سن 2006 میں اس بیکٹیریا نے 200 سے زیادہ لوگوں کو بیمار کر دیا تھا۔

یہ 2006 کے بعد اس بیکٹیریا کا دوسرا بڑا حملہ ہے۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے