Home / کاروبار / ای کامرس کمپنی دراز ’’علی بابا‘‘ نے خریدلی

ای کامرس کمپنی دراز ’’علی بابا‘‘ نے خریدلی

پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار اور نیپال میں کاروبار کو مزید وسعت دینے کاعزم فوٹو: فائل

پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار اور نیپال میں کاروبار کو مزید وسعت دینے کاعزم
فوٹو: فائل

 کراچی:  پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار اور نیپال میں معروف ای کامرس کمپنی دراز گروپ نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کو علی بابا کی جانب سے مکمل طور پر حاصل کرلیا گیا ہے اور وہ اب علی بابا گروپ کے ممبر کے طور پر کام کرے گی۔

اس عمل کے بعد اب دراز علی بابا کی قیادت میں کام کرے گی اور ٹیکنالوجی، آن لائن تجارت، موبائل ادائیگیوں اور لاجسٹکس کے حوالے سے جنوبی ایشیا کی 5 ممالک میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دے گی جن کی مجموعی آبادی 46 کروڑ سے زائد اور ان کی 60 فیصد آبادی کی عمر 35 سال سے کم ہے، دراز کا قیام 2012 میں پاکستان میں عمل میں لایا گیا اور وہ اس کے بعد سے ملک میں آن لائن شاپنگ کا مقبول ترین مرکز بن چکی ہے، آج کمپنی بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا اور نیپال میں آن لائن کاروبار کر رہی ہے، دراز اسی برانڈ کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔

دراز کے شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر بجارکے میکلسن نے کہا کہ اس نئے اقدام سے دراز علی بابا گروپ کا حصہ بن چکی ہے اور ہم اس مشن کا حصہ بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں جس کے تحت ہر جگہ کاروبار میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے، سخت محنت اور لگن کے ساتھ ہم نے ای کامرس کا سفر شروع کیا۔ دراز کے شریک سی ای او ڈاکٹر جوناتھن ڈوئر نے کہا کہ علی بابا کے ساتھ مل کر ہم خطے میں کاروبار کرنے والوں کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں اور صارفین کو انتہائی آسانی کے ساتھ مصنوعات کے بہترین انتخاب کے وعدے کو پورا کرنے کی پیشکش کرتے ہیں اور اس سارے عمل کے لیے ہمیں بہترین ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم، سامان کی ترسیل کے مضبوط نیٹ ورک اور شرکا کے ایکو سسٹم کی فعال کمیونٹی کی حمایت حاصل ہوگی۔

علی بابا گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈینیل ژانگ نے کہا کہ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ دراز علی بابا گروپ کا حصہ بن رہی ہے، دراز کے ساتھ مل کر ہم علاقے میں اپنی ٹیکنالوجی اور تجربے کے ذریعے صارفین کی بہتر خدمت کے لیے کاروباری افراد کو بااختیار بنا سکتے ہیں، دراز میں ہمیں عظیم ٹیم ملی ہے جو ہماری اقدار کو مضبوط بنا سکتی ہے اور اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ ٹیکنالوجی کا حامل تجارتی ایکو سسٹم جنوبی ایشیا میں طویل المدتی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے