Home / عالمی حالات / بھارتی سکھ یاتریوں کےساتھ تنہا خاتون اور کلین شیو مردوں کے پاکستان آنے پر پابندی

بھارتی سکھ یاتریوں کےساتھ تنہا خاتون اور کلین شیو مردوں کے پاکستان آنے پر پابندی

نئی دہلی: بھارت کی سکھ مذہبی تنظیموں نے یاتریوں کے ساتھ اکیلی عورت، کلین شیو نوجوانوں اور دوسرے مذہب کے افراد کے پاکستان آنے پر پابندی لگادی ہے۔  

بھارتی میڈیا کے مطابق سکھوں کے مذہبی معاملات کی منتظم شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سمیت دیگر سکھ مذہبی تنظیموں نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان جانے والے یاتریوں کے جتھوں میں کسی غیر سکھ شخص، 15 سے 50 سال کی تنہا خاتون اور کلین شیو نوجوانوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ 8 اور 21 جون کو پاکستان جانے والے یاتری گروپ میں سکھوں کے علاوہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل نہیں کیا جاسکے گا جب کہ کلین شیو سکھ نوجوانوں کو بھی ’یاترا جتھے‘ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ خواتین اپنے شوہر، والدین یا سرپرست کے ہمراہ ہی سکھ یاتریوں کے گروپ میں شامل ہوسکتی ہے۔ اہل خانہ کے بغیر یاترا کی خواہش مند تنہا خاتون کو بھی پاکستان نہیں لے جایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان آنے والے بھارتی سکھ یاتریوں کے جتھے میں شامل ایک خاتون نے مسلمان ہوکر ایک نوجوان سے شادی کرلی تھی جب کہ ایک نوجوان لاپتہ ہوگیا تھا۔ ان ہی واقعات کے سد باب کے لیے پاکستانی حکام نے متعلقہ افراد سے قواعد وضوابط میں تبدیلی کی درخواست کی تھی۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے