تشدد کیس میں بریت،عدالت کا بہت شکریہ،عمران خان

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایس ایس پی تشدد کیس کا فیصلہ 10اپریل کو محفوظ کرلیا تھا
نواز شریف کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، انہیں ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے،پی ٹی آئی چیئرمین
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ایس ایس پی عصمت اللہ تشدد کیس میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو تشدد کیس میں وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 10 اپریل کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 25 اپریل کو مذکورہ کیس کی گزشتہ سماعت پر عمران خان کے پیش نہ ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ 4 مئی تک کے لیے موخر کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا تھا۔ عمران خان جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوئے، جہاں انہیں ایس ایس پی تشدد کیس میں بری کر دیا گیا۔ فیصلہ سنتے ہی عمران خان نے بے ساختہ کہا ’’بہت مہربان‘‘ جس پر کمرۂ عدالت میں موجود افراد کی نگاہیں ان کی طرف اٹھ گئیں۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ مقدمے میں بریت پر خوش ہوں، نواز شریف اور زرداری نے جو ظلم کیا وہ آمروں نے بھی نہیں کیا مجھ پر دہشت گردی کا کیس بنایا گیا، یہ ووٹ لے کر آتے ہیں مگر آمر سے بھی برا کام کرتے ہیں۔ تحریک انصاف جب اقتدار میں آئے گی تو سیاسی لیڈروں کے خلاف قانون کے غلط استعمال کو ختم کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ میاں صاحب کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، انہیں ماہر نفسیات سے چیک کرانا چاہیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو ووٹ دینا ایسا ہی جیسے فوج کو ووٹ دینا، عدلیہ کو ووٹ دینا، یہ ہماری الیکشن مہم کر رہے ہیں کیونکہ لوگ ان اداروں سے خوش ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں