Home / عالمی حالات / جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں، ایران پر پابندیاں لگیں گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

جوہری معاہدے سے نکل رہے ہیں، ایران پر پابندیاں لگیں گی: صدر ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ 2015 میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے سے نکل رہا ہے اور ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے سے امریکی اور امریکہ کے اتحادیوں کو محفوظ کرنا تھا لیکن اس معاہدے نے ایران کو یورینئیم کی افزودگی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ‘تباہ کن’ ایران جوہری معاہدہ امریکہ کے لیے باعث ’شرمندگی‘ ہے۔

ایران جوہری معاہدے سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ ایران کو عدم استحکام پھیلانے، بشمول دہشت گردی کی معاونت جیسی کارروائیوں سے نہیں روکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کے تحت ایران پر سے اٹھائی جانے والی معاشی پابندیاں دوبارہ سے عائد کریں گے۔

صدر ٹرمپ 2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنی جوہری طاقت پر کام کو محدود کرنا ہے اور اس کے بدلے میں اس پر لگائی گئیں پابندیاں نرم کر دی گئیں۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدہ بہترین طریقہ ہے جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل برطانوی سیکریٹری خارجہ بورس جانسن نے صدر ٹرمپ سے استدعا کی تھی کہ جوہری معاہدے کو ختم نہ کریں۔ دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی معاہدے کی پاسداری جاری رکھیں گے۔

یہ جوہری معاہدہ ایران اور سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا۔

ایران یورینیم کی پانچ فیصد سے زائد افزودگی روک دے گا اور درمیانے درجے تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ناکارہ بنائے گا۔

آراک کے مقام پر بھاری پانی کے جوہری منصوبے پر مزید کام نہیں کیا جائے گا۔

جوہری ہتھیاروں کے عالمی ادارے کو نتنانز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات تک روزانہ کی بنیاد پر رسائی دی جائےگی۔

ان اقدامات کے بدلے میں چھ ماہ تک جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے ایران پر کوئی نئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔

قیمتی دھاتوں اور فضائی کمپنیوں کے سلسلے میں پہلے سے عائد کچھ پابندیاں معطل کر دی جائیں گی۔

ایران کو تیل کی فروخت کی موجودہ حد برقرار رہے گی جس کی بدولت ایران کو چار ارب بیس کروڑ ڈالر کا زرِمبادلہ حاصل ہو سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو ’تباہی‘ اور ’پاگل پن‘ قرار دیا ہے اور دو بار کانگریس کو اس بات کی توثیق کرنے سے انکار کیا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کی تعمیل کے حوالے سے کانگریس کو وضاحت دینے کا مطالبہ مسترد کر چکے ہیں لیکن تاحال انھوں نے پابندی بحال کرنے سے بھی انکار کیا ہے۔

انھوں نے جنوری 2018 میں خبردار کیا تھا کہ اگر کانگریس اور یورپی ممالک نے اس معاہدے کی تباہ کن خامیوں کو دور نہ کیا تو 12 مئی کو امریکہ معاہدے سے نکل جائے گا۔

ان کی شکایت ہے کہ یہ معاہدہ ایران کو ایک محدود مدت کے لیے جوہری سرگرمیوں سے روکتا ہے تاہم اس نے بیلیسٹک میزائلز پر کام نہیں روکا۔ اور اس کی وجہ سے ایران کو ایک کھرب ڈالر ملے جو اس نے مشرقِ وسطی میں ہتھیاروں کے ترسیل ، دہشت اور قبضہ پھیلانے کے لیے استعمال کیے۔

یورپی رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کو اس بات پر راضی کرنے کی کوششیں کیں کہ معاہدے کو ختم نہ کیا جائے اور جو خدشات ہیں ان کو ایک اور معاہدے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اطلاعات کے مطابق یورپی سفارتکار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو راضی کرانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیی کہ وہ ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان شام چھ بجے جی ایم ٹی پر کریں گے۔

ایران جس کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس کے خیال میں ایران کا جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ اگر امریکی صدر نے دوبارہ پابندی عائد کی تو اس کے ’خطرناک نتائج‘ ہوں گے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں یورینیئم کی افزودگی بڑھا دی جائے گی۔

ایران کے وزیرا خارجہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو ختم کرتا ہے تو اسے ’سنگین صورتحال‘ میں تحران کے جوہری معاہدے کو جبراً تسلیم کرنا پڑے گا۔

ایرانی نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق جواد ظریف نے کہا ہے کہ ’اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس بین الااقوامی کامیابی (جوہری معاہدے) کو تباہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں تو انھیں یقینی طور پر ایرانی عوام کے حقوق کو بدترین صورتحال میں جبراً تسلیم کرنا پڑے گا۔‘

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے