Home / کاروبار / حصص مارکیٹ پر مندی کے سائے مزید گہرے ، 50 ارب کا نقصان

حصص مارکیٹ پر مندی کے سائے مزید گہرے ، 50 ارب کا نقصان

364کمپنیوں میں سے259کی قیمتیں گرگئیں، کاروباری حجم18فیصدزائد،15 کروڑ35 لاکھ حصص کے سودے فوٹو: فائل

364کمپنیوں میں سے259کی قیمتیں گرگئیں، کاروباری حجم18فیصدزائد،15 کروڑ35 لاکھ حصص کے سودے
فوٹو: فائل

 کراچی:  غیریقینی سیاسی حالات اور سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں کی طویل المدت سرمایہ لگانے میں عدم دلچسپی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے جس سے سرمایہ کاروں کے مزید50 ارب24 کروڑروپے ڈوب گئے۔

کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر61.40 پوائنٹس تک کی تیزی بھی ہوئی لیکن بداعتمادی کی وجہ سے حصص کی فروخت پردباؤ بڑھنے سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور مندی کی شدت ایک موقع پر453 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پرخریداری سرگرمیوں سے مندی کی شدت میں کمی ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس311.56 پوائنٹس کی کمی سے 44066.96 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس180.91 پوائنٹس گھٹ کر 21595.65، کے ایم آئی 30 انڈیکس 352.40 پوائنٹس کی کمی سے 75527.73 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 59.36  پوائنٹس گھٹ کر 22107.03 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت17.62 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 15 کروڑ 35 لاکھ14 ہزار 800 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار364 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں86 کے بھاؤ میں اضافہ، 259 کے داموں میں کمی اور19 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے