Home / کاروبار / پاکستان اور افغانستان تجارت میں حائل رکاوٹیں ہٹانے پر متفق

پاکستان اور افغانستان تجارت میں حائل رکاوٹیں ہٹانے پر متفق

تازہ پھلوں وسبزیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے پر تبادلہ خیال، کورڈینیشن اتھارٹی کا اجلاس جلد بلانے پراتفاقفوٹو : فائل

تازہ پھلوں وسبزیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے پر تبادلہ خیال، کورڈینیشن اتھارٹی کا اجلاس جلد بلانے پراتفاق
فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  پاکستان نے افغانستان کو زمینی راستے کے ذریعے کپاس برآمد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیاہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطح پر وزارتی مذکرات ہوئے جس میں افغانستان کے وفد کی قیادت نائب وزیر تجارت کمیلا صدیقی نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری تجارت محمد یونس ڈاگھا نے کی، اجلاس میں قومی غذائی تحفظ و تحقیق،ایف بی آر اور دفترخارجہ کے حکا م نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران افغانستان سے پاکستان کو کپاس کی برآمد کے دوران افغانی برآمدکنندگان کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیا ل کیاگیا، تاہم ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران پاکستان نے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان کو کپاس برآمد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا تھاکہ افغانستان کو زمینی راستے کے ذریعے پاکستان کو کپاس برآمد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور افغانستان صرف سمندری راستے کے ذریعے پاکستان کو کپاس برآمد کرسکتا ہے، افغانستان اپنی مجموعی پیداوار سے بھی زائد کپاس پاکستان کو برآمد کرتا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ پاک افغان مذکرات کے دوران پاکستان کی جانب سے افغانستان سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کے معیار کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیاگیا اور افغانستا ن نے فائٹو سینٹری سرٹیفکیٹ کا پاکستان کے ساتھ آن لائن تبادلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران افغانستان کی جانب سے پاک افغان بھارت ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاملہ زیر غور لایا گیاتاہم پاکستان نے اس معاملے پر کوئی بات کرنے سے معذرت کرلی اور پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ فورم ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے امور طے کرنے کے لیے مناسب نہیں، ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے الگ فورم موجود ہے اس معاملے کو اسی فورم پر زیر بحث لایاجاسکتاہے۔

دریں اثنا وزارت تجارت کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق پاک افغان مذاکرات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تجارت بڑھانے پر اتفاق کیاہے، فریقین نے تازہ پھلوں سبزیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے افغان وفد کو بتایاکہ پلانٹ پروٹیکشن کے ادارے کے افراد کو چمن اور طورخم بارڈر پر تعینات کردیا گیا ہے۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک نے ادارہ جاتی میکنزم کو مزید موثر بنانے، ساتویں افغان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کورڈینیشن اتھارٹی کا اجلاس جلد بلانے، دوطرفہ و ٹرانزٹ ٹریڈ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اجلاس بلانے پر اتفاق کیا۔

About محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے