Home / آرکائیو / وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو الیکشن کا کیا فائدہ، فواد چوہدری
اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے اور اگر ملک کا وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات …

وزیراعظم آئی جی کو بھی معطل نہیں کرسکتا تو الیکشن کا کیا فائدہ، فواد چوہدری

اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے اور اگر ملک کا وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ‘وفاقی وزیر اعظم سواتی اس معاملے میں صحیح ہیں یا غلط مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ایک آئی جی کس طرح یہ کر سکتے ہیں کہ وہ ایک وفاقی وزیر کی فون کال نہ اٹھائیں اور دوبارہ فون کرنے کی زحمت بھی نہ کریں، جبکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، اس سے قبل وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے بھی آئی جی کے خلاف وزیر اعظم و وزیر داخلہ عمران خان سے عدم تعاون کی شکایت کی تھی۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اسلام آباد کے اسکولوں اور کالجز میں منشیات فروخت ہورہی ہے، شہریار آفریدی نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آئی جی کو فون کرتے ہیں تو ان کا جواب نہیں آتا اور نہ ہی وہ منشیات اسمگلروں کے خلاف کوئی کارروائی کر رہے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘شہریار آفریدی نے یہ شکایت بھی کی کہ اسلام آباد کے تھانوں میں رشوت کی شکایات ہیں، اس پر بھی آئی جی تعاون نہیں کر رہے۔’

فواد چوہدری نے کہا کہ ‘آئی جی، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کو جوابدہ ہے، یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کرنا کہ آپ فون نہ اٹھائیں تو ہیرو بن جائیں گے، اس سے ملک میں بے چینی پیدا ہوگی، اگر بیوروکریٹس کے ذریعے ہی حکومت چلانی ہے تو انتخابات کی کیا ضرورت ہے، اگر ملک کا وزیر اعظم جائز شکایات پر بھی آئی جی تبدیل نہیں کر سکتا تو انتخابات کرانے کا کیا فائدہ، پھر تو چند بیوروکریٹس سے ہی حکومت چلا لیتے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘خیبر پختونخوا میں 5 سال کے دوران شکایات پر پولیس والوں کے کئی بار تبادلے کیے گئے، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کے اختیارات ہیں جنہیں وہ استعمال کریں گے، ممکن نہیں کہ آئی جی، ڈی سی یا کوئی اور وزیراعظم اور دیگر کو جواب دہ نہ ہوں۔’

وزیر اعظم عمران خان کی بنی گالہ کی رہائش گاہ سے متعلق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم کا گھر سی ڈی اے کی حدود میں نہیں آتا تھا، ان کا کا گھر موہڑہ نور یونین کونسل کی حدود میں آتا تھا، 30 سال قبل یہ گھر پچھلے قوانین کے تحت بنا تھا۔’

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی شہباز شریف سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس آنے سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف کی سیاست اتنی ہی رہ گئی ہے کہ وہ دوسروں کو ملنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس آسکتے ہیں، جبکہ شہباز شریف اور آصف زرداری میں جھگڑا اس بات کا ہے کہ دونوں میں بڑا کون ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اپوزیشن جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) این آر او لینے کے لیے ہورہی ہے، فضل الرحمٰن، نواز شریف اور آصف زرداری وزیراعظم سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کردیے جائیں تو جمہوریت بحال ہوجائے گی، لیکن کچھ بھی ہوجائے این آر او نہیں ہوگا، جبکہ حکومت کہہ رہی ہے نہ رو، اپوزیشن کہہ رہی ہے این آر او۔’

انہوں نے کہا کہ ‘شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا چیئرمین نہیں بناسکتے، وہ کمیٹی کا اجلاس کیا جیل میں بلائیں گے۔’

فواد چوہدری نے کہا کہ ‘پاکستان سٹیزنز پورٹل پر مختلف محکموں سے متعلق اب تک ایک لاکھ شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں سے نصف پنجاب سے، تقریباً 20 ہزار سندھ سے جبکہ بقیہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے متعلق ہے، آئندہ اتوار کو ہم ان شکایات کے ازالے سے متعلق آگاہ کریں گے۔’

About نامہ نگار