Home / آرکائیو / عمران خان جمہوریت اور جمہوری اقدار کے قائل ہیں، شاہ محمود قریشی کی مسلمان سے گفتگو
اسلام آباد (انٹرویو: سید انوار زیدی) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں پاکستان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اس سارے دورانیہ میں ملک کا وزیر خارجہ ہی نہیں تھا جو خارجہ پالیسی مرتب …

عمران خان جمہوریت اور جمہوری اقدار کے قائل ہیں، شاہ محمود قریشی کی مسلمان سے گفتگو

اسلام آباد (انٹرویو: سید انوار زیدی) پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ نواز شریف نے اپنے پچھلے دور حکومت میں پاکستان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اس سارے دورانیہ میں ملک کا وزیر خارجہ ہی نہیں تھا جو خارجہ پالیسی مرتب کرتا اور دنیا میں اپنا مقدمہ پیش کرتا عالمی امور میں پاکستان کی وکالت کرتا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ہمسایہ ممالک ،مغربی اسلامی دنیا کے بیشتر ممالک ایران خلیج کے معاملات کو ری ڈائریکٹ کیا ہے اور خطے میں پاکستان کے وقار کو بلند کرتے ہوئے امن و استحکام کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور معاشی سفارت کاری کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں معاشی بدحالی کا یہ عالم تھا کہ ملک پچھلے ستر سالوں میں اتنا مقروض نہیں ہوا جتنا ان کے دور حکومت میں ہوااقتدار سے جاتے وقت وہ پاکستان کو 80ارب ڈالر سے زائد کا مقروض چھوڑ کر گئے ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف یہ بات بالکل بے بنیاد اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے کہ وہ سولو فلائٹ کرتے ہیں اس حوالے سے کہوں گا کہ عمران خان جمہوریت اور جمہوری اقدار کے قائل ہیں جمہوریت میں آزادی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اختلاف رائے ہر کسی کا حق ہے ہماری پارٹی میں اختلاف رائے کو سنا جاتا ہے اور عمران خان پارٹی کے سینئر ارکان سے مشاورت کرتے ہیں اس کے برعکس پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کسی کو اختلاف رائے کا حق حاصل نہیں ہے یہ فرد واحد کی بلکہ خاندانوں کی جماعتیں ہیں انہی کے فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا ہے باقی سب انگوٹھا لگانے والے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف خاندان واویلا کرتا ہے کہ انتقام لیا جارہا ہے نواز شریف نے کیا انتقام دیکھا ہے جنہوں نے دیکھا ان سے پوچھیں اعلیٰ عدالتوں نے ان کوایک بار نہیں کئی باراپنی بے گناہی ثابت کرنے کے مواقع فراہم کیے مگر انہوں نے ایک بار بھی نہ تو کوئی دستاویزات پیش کیں اور نہ ہی کوئی ٹھوس شواہد ۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانا تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے اور حکومت کے پروگرام میں شامل ہے انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب 11کروڑ نفوس پر مشتمل ہے یہ بڑا صوبہ دنیا کے بیشتر ممالک سے بھی بڑا ہے جس کی دیکھ بھال اور اس کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانا مشکل ہے جنوبی پنجاب سے 46قومی اسمبلی کی نششتیں ہیں 11اضلاع پر محیط 3 ڈویژن ملتان۔بہاولپور اور ڈیرا غازی خان ہیں ہماری حکومت جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانا چاہے گی ۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتا یا میں جب پیپلز کی حکومت میں وزیر خارجہ تھا مستعفی ہونے کا سبب ریمنڈ ڈیوس کیس تھا حکومت ان کو سفارتی استثنیٰ دینا چاہتی تھی جبکہ وہ قانون کے تحت سزا کا حق دار تھا لیکن اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے امریکہ کے دباؤ میں ملی بھگت کی پھر جب میں نہ مانا تو انہوں نے مجھے نشانہ بنایا لیکن میں نے اپنے منصب سے بددیانتی نہیں کی کسی بھی سودی بازی کا حصہ بننے کی بجائے پیپلز پارٹی کو خیر باد کردیا اور مستعفی ہو گیا میں نے سوچا کہ جب پارٹی چھوڑی ہے تو پھر قومی اسمبلی کی سیٹ بھی چھوڑدی اور عمران خان کی غیر متزلزل قیادت کے زیر سایہ نومبر 2011 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی محب وطن لوگوں نے بہت عزت دی اور تحریک انصاف کے ٹکٹ پر مجھے دوبارہ ممبر نیشنل اسمبلی بنادیا ۔

About نامہ نگار