Breaking News
Home / اہم ترین / پختونخوا ہائی ویزکونسل کاسالانہ اجلاس،چھ مختلف صوبائی روڈز کی پراونشلائزیشن کی منظوری

پختونخوا ہائی ویزکونسل کاسالانہ اجلاس،چھ مختلف صوبائی روڈز کی پراونشلائزیشن کی منظوری

پشاور۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیرصدارت پختونخوا ہائی ویزکونسل کےسولہویں سالانہ اجلاس میں مزید چھ مختلف صوبائی روڈز کی پراونشلائزیشن کی منظوری دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاورمیں منعقدہ کونسل کےاجلاس میں صوبائی وزیربرائےمواصلات و تعمیرات اکبرایوب،وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش اوردیگر متعلقہ حکام نےشرکت کی۔

اجلاس کو کونسل کے سابقہ اجلاس کےفیصلوں پرعمل درآمد میں پیش رفت اورمسائل سےآگاہ کیا گیا۔اجلاس میں کونسل کےسالانہ ترقیاتی پروگرام برائے سال 2018-19 ، مجوزہ مینٹنینس پلان2018-19،اورکونسل کےبجٹ برائے مالی سال2018-19 کی منظوری دی گئی۔

اجلاس کوآگاہ کیاگیاکہ پختونخواہائی ویزاتھارٹی اس وقت34صوبائی ہائی ویزکی دیکھ بھال کررہی ہے،جنکی مجموعی لمبائی2790کلومیٹرہے۔کونسل کےسابقہ اجلاس میں منگلورتامالم جبہ روڈ اورسری کوٹ تاگودوالیاں بائی پاس روڈ کی پراونشلائزیشن کافیصلہ کیاگیا تھاجولاگوہو چکا ہے۔

اجلاس میں کونسل کی سفارشات پر مزید چھ مختلف صوبائی روڈزکی پراونشلائزیشن اوران کےناموں کی منظوری دی گئی۔ان روڈزمیں35 کلو میٹر طویل چوکیاتان شرنگل پاٹراک روڈ(S-16 )ضلع دیر اپر،23کلومیٹر طویل مٹہ فاضل بانڈہ روڈ(S-17)ضلع سوات،12 کلومیٹر طویلعمرزئی تا تنگی تحصیل ہیڈکوارٹر روڈ(S-9-B) ضلع چارسدہ، 24 کلومیٹر طویل ہری پور بائی پاس روڈ(S-12-A) ضلع ہری پور، 35 کلومیٹر طویل امبیری کلے تا عباسی بانڈہ روڈ (S-13-A) ضلع کرک اور 16 کلومیٹر طویل ریحانہ منگ روڈ (S-5-C) شامل ہیں۔

علاوہ ازیں84کلو میٹر طویل تھاکوٹ تادربند روڈ کی توسیع و بحالی کی ضرورت سےبھی اتفاق کیاگیا اوراس سلسلےمیں قابل عمل پلان تجویز کرنے کی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں مختلف صوبائی روڈز پر ٹیکس لاگو کرنےکےطریق کارپربھی تبادلہ خیال کیاگیاوزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں وزیر مواصلات اور وزیر خزانہ کو حکمت عملی وضع کرنے اور ایک ماہ کے اندر حتمی اور قابل عمل تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ متعلقہ وفاقی حکام سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کیا جائے۔

اجلاس میں پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی بھرتی کےطریق کار کےحوالےسےسروس رولز میں ترمیم کی بھی منظوری دی گئی۔

ترمیم کےمطابق ایم ڈی کی ابتدائی طور پربھرتی کیلئےایم ایس سی سول انجینئرنگ بمعہ 15 سال متعلقہ تجربہ درکارہوگا،یابی ایس سی سول انجینئرنگ فرسٹ ڈویژن بمعہ 20 سال متعلقہ تجربہ،یا پی کےایچ اے کےگریڈ19 کےڈائریکٹرز میں سےمیرٹ پرانتخاب جس کا گریڈ 19 میں پانچ سالہ تجربہ ہو،یامحکمہ مواصلات وتعمیرات کےگریڈ19 یا20 کےافسران میں سے بذریعہ تبادلہ۔

علاوہ ازیں پختونخوا ہائی ویز اتھارٹی کے148کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کی منظوری دی گئی ہےاتھارٹی کےتحت فیلڈ میں کام کرنے والے گریجویٹ انجینئر ز کیلئے ٹیکنیکل الائونس کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں سوات موٹروے پرکام کی پیش رفت پربھی تبادلہ خیال کیا گیا وزیراعلیٰ نے منصوبے پر سنجیدہ پیش رفت یقینی بنانےکی ہدایت کی اور واضح کیا کہ منصوبےکےمعیار پرسمجھوتہ نہیں کیا جائےگا۔

وزیراعلیٰ نےسوات موٹروے پرنیشنل ہائی وے/موٹروے پولیس کی تعیناتی کیلئےنیشنل ہائی ویزاتھارٹی کےساتھ اجلاس رکھنےکی ہدایت کی۔اس موقع پرصوبائی حکومت کےآئندہ مالی بجٹ کی تیاریوں کےتناظرمیں پن بجلی کےخالص منافع کی مدمیں صوبےکےشیئرکی وصولی کا معاملہ بھی زیرغورآیا،وزیراعلیٰ نےاس مد میں محکمہ خزانہ کو درکار26ارب روپےکی جلد وصولی کیلئےوفاقی سطح پرمعاملےکو زوردار طریقے سے اٹھانے کا عندیہ دیا۔

About ویب ڈیسک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے