Breaking News
Home / آرکائیو / بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم
اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سے نکالنے کا …

بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کی، اس دوران حکومتی نمائندے اور فریقین کے وکلا پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کا معاملہ زیر بحث آیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم آج ہی عمل درآمد بینچ بنائیں اور حکم دیں کہ ملک ریاض کو گرفتار کریں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کیا یہ طریقہ کار ہے کہ ایک بڑے آدمی کو بچانے کے لیے ساری ٹیم آجاتی ہے، سارے ایسے کہتے ہیں کہ جیسے ملک ریاض معصوم ہوں۔

چیف جسٹس نے جے آئی ٹی رپورٹ پر ریمارکس دیے کہ اس رپورٹ کو مزید تفتیش کی ضرورت ہوئی تو نیب کو بھیج دیں گے، پھر یہ لوگ جانیں اور نیب جانے۔ دوران سماعت ملک ریاض کے وکلا کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ملک ریاض اس ملک کا ایماندار شخص ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جے آئی ٹی رپورٹ پر جواب مانگے گے، جس پر آپ جواب دے کر اپنی پوزیشن واضح کریں، ہم نے اس جواب پر اپنا حکم دینا ہے۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں مختلف لوگوں کے نام شامل کرنے سے متعلق معاملے پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے بتایا کہ عدالتی حکم پر ای سی ایل کے معاملے پر کابینہ کا اجلاس بلایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں تمام ناموں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور ای سی ایل سے متعلق جائزہ کمیٹی کا اجلاس 10 جنوری کو ہونا ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹھیک ہے اب ای سی ایل والے معاملے پر جو بھی ہوگا وہ وہی کریں گے۔

عدالت میں سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے سینئر وکیل فاروق ایچ نائیک کے خلاف آبزرویشن دی ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسے وکلا کے نام شامل ہوئے تو پھر ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب ہم نے پنڈورا باکس کھول دیا، اب کونسا پنڈورا بکس کھولیں گے۔ ساتھ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو ایک حقائق پر مشتمل انکوائری ہوئی ہے، ہم نے اس رپورٹ پر فیصلہ کرنا ہے، یہاں کوئی بھی مقدس گائے نہیں ہے۔ جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران اومنی گروپ کے معاملے پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اومنی گروپ کا سیاستدانوں اور نجی پراپرٹی ٹائیکون سے گٹھ جوڑ دیکھنا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایسا مرکب (مکسچر) کیا گیا ہے کہ اس کی لسی بن گئی ہے، کیا اوپر سے فرشتے آکر جعلی بینک اکاؤنٹس کھول گئے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مطمئن ہونا ہے کہ اومنی گروپ کا سیاستدانوں اور بحریہ ٹاؤن سے گٹھ جوڑ ہے یا نہیں، جس پر وکیل اومنی گروپ منیر بھٹی نے بتایا کہ عدالت کو دیا گیا تاثر درست نہیں، عدالت اجازت دے تو معاملے کی اصل تصویر پیش کرسکوں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ غلط تاثر ہے کہ اومنی گروپ کا سندھ حکومت اور بحریہ سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔

منیر بھٹی نے بتایا کہ اومنی گروپ نے شوگر ملز قانون اور طریقہ کار کے مطابق خریدیں، اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ ملز مفت تو نہیں لی ناں، پیسے جعلی اکاؤنٹس سے آئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ یہ جے آئی ٹی کی تفتیش جعلی بینک اکاؤنٹس تک محدود نہیں تھی، ساتھ ہی جسٹس فیصل عرب نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب ریفرنس دائر ہو تو اپنا دفاع کر لیجئے گا۔

عدالت میں تفصیلی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ تفتیشی رپورٹ ہے اس پر فریقین کا جواب دیکھنا ہے، اتنا مواد آنے کے بعد معاملے کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، اصل مسئلے سے ہٹ کر ای سی ایل پر توجہ مرکوز نہ کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکلا نے قسم کھائی ہے کہ اصل مقدمے کو چلنے نہیں دینا اور اعتراض ہے کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ اس پر منیر بھٹی نے کہا کہ جے آئی ٹی نیب کو ریفرنس دائر کرنے کی سفارش نہیں کر سکتی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کی سفارش پر اعتراض ہے تو ہم نیب کو معاملہ بھیج دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چارٹ دیکھا ہے کہ کس طرح کس سال سے اوپر اٹھے ہیں، کیسے سندھ بینک اور سمٹ بینک بنا لیے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان بینکوں کو ضم کر رہے ہیں اور اس کا مقصد معاملے پر مٹی ڈالنا ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے منیر بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ سبسڈی کے معاملے پر کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا گیا، جے آئی ٹی کے دیے گئے اعدادوشمار ریکارڈ پر نہیں۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے منیر بھٹی آپ لیئرنگ کے بارے میں جانتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا، اس پر پھر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تو پھر آپ دلائل کیوں دے رہے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو تو معاملہ ٹرائل عدالت میں بھجوانے پر اصرار کرنا چاہیے، اگر ہم اس رپورٹ کو قبول کر لیں تو آپ کے پاس کوئی راستہ نہیں رہ جائے گا۔

جس پر منیر بھٹی نے کہا کہ اس میں فاروق ایچ نائیک پر بھی الزامات ہیں، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک ہمارے بھی تو ہیں، آپ ان کی فکر چھوڑیں۔ مذکورہ سماعت میں اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے وکیل شاہد حامد نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے کی سست روی پر ازخود نوٹس لیا تھا، اب تو یہ تفتیش ہو گئی ہے اس کو نمٹا دیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم اتنے سادہ ہیں، ہم اس مقدمے کو ختم نہیں کریں گے بلکہ آگے بھی چلائیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے وکیل فیصل صدیقی سے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو کو معاملے میں کیوں ملوث کیا، بلاول معصوم نے پاکستان میں آکر ایسا کیا کردیا؟ بلاول صرف اپنی ماں کا مشن آگے بڑھا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے فیصل صدیقی کو کہا کہ آپ کو ایک بات کا جواب تو ضرور دینا پڑے گا، بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل میں شامل کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ بلاول تو معصوم بچہ تھا، آپ نے اس کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا، آپ نے بلاول بھٹو کو کس طرح اس کیس میں ملوث کیا، کیا جے آئی ٹی نے کسی کو بدنام کرنے کے لیے ایسا کیا، کیا کسی کے کہنے پر بلاول بھٹو کا نام رپورٹ میں ڈالا؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی نے تو اپنے وزیر اعلیٰ کی عزت نہیں رکھی اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا۔ اس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کو اس حوالے سے مطمئن کروں گا، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کی سفارشات کو منظور کرنے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جرم بنتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ عدالت کرے گی، عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کے پابند نہیں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جعلی اکاونٹس کا تعلق بظاہر سیاستدانوں، بحریہ ٹاؤن اور اومنی گروپ سے بنتا ہے، ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے۔ دوران سماعت وکیل شاہد حامد نے عدالت کو مزید بتایا کہ انور مجید اور عبدالغنی مجید اگست سے گرفتار ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ ٹرائل جلد مکمل کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے عبوری چلان جمع کرا چکا ہے، چلان جمع کرانے کے بعد جے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ ایف آئی اے کا ہے اسے ہی فیصلہ کرنے دیا جائے، عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کی توثیق نہ کرے اور جے آئی ٹی میں شامل نہ ہونے والی اومنی گروپ کی کمپنیوں کو چلنے دیا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اومنی گروپ نے بندر بانٹ سے تمام جائدادیں اور کمپنیاں بنائیں، اربوں روپے کی چینی رہن رکھوائے بغیر ہی اربوں روپے قرض لیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انور مجید اور عبدالغنی مجید کی طرف سے جواب دیں کہ چینی کدھر ہے؟ بعد ازاں عدالت نے بلاول بھٹو کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا اور ریمارکس دیے کہ جب تک بلاول پر کوئی نئی انکوائری نہیں ہوتی ان کا نام نکال دیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی ہم نے بنائی، جے آئی ٹی رپورٹ کا وہ حصہ ختم (ڈیلیٹ) کریں جس میں بلاول بھٹو کا نام ہے۔ سماعت میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رکن سے استفسار کیا کہ بریگیڈیئر صاحبت آگے آکر بتائیں کیا ہم نے آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ سماعت کے دوران عام انتخابات سے متعلق چیف جسٹس نے اہم ریمارکس سامنے آئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہا جا رہا تھا الیکشن نہیں ہونگے، ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا ایک منٹ کی تاخیر نہیں ہو گی، ہم نے پہلے ہی کہ دیا تھا جمہوریت نا رہی تو ہم نہیں رہیں گے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ جمہوریت بہت بڑی نعمت ہے، شہریوں کے بنیادی حقوق بھی اسی جمہوریت کے مرہون منت ہیں۔

اس پر وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم بھی جمہوریت کا ہی تحفظ چاہتے ہیں، جمہوریت ارتقائی عمل میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی صورت جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے حوالے سے جے آئی ٹی کی آبزرویشن پر تحفظات ہیں، اگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھا گیا تو جمہوریت کیسے چلے گی، ہمیں سندھ حکومت سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس کا معاملہ نیب کو بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نیب 2 میں تحقیقات مکمل کرے۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل اور جے آئی ٹی سے نکالنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب چاہے تو ان دونوں شخصایت کو الگ الگ طلب کرسکتی ہے جبکہ مزید تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی اپنا بقیہ کام مکمل کرے۔

About نامہ نگار