Home / اہم ترین / اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی سزا برقرار یا ختم کرواسکتی ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نواز شریف کی سزا برقرار یا ختم کرواسکتی ہے، سپریم کورٹ

ایف آئی اے معاملے کی تحقیقات کررہی ہے ہم مداخلت نہیں کرسکتے، متاثرہ فرق ویڈیو سے فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو درخواست دے
جج ارشد ملک کو دھمکیاں مل رہی تھیں تو اعلیٰ عدلیہ کو آگاہ کیوں نہیں کیا، رشوت کی پیشکش پر کیس سننے سے معذرت کیوں نہیں کی گئی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سے متعلق دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو اختیار ہے کہ وہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد جج کی طرف سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو دی جانے والی سزا کا ازسرنو جائزہ لے۔ احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک نے گزشتہ برس میاں نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا تھا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو روز قبل محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس نے فیصلے کے بارے میں بتایا کہ پہلا ایشو ویڈیو کے مستند ہونے یا نہ ہونے کا تھا جبکہ دوسرا اسے بطور ثبوت پیش کرنے کے بارے میں تھا، تیسرا ایشو ویڈیو کے مستند ہونے کی صورت میں مجاز فورم کا تھا۔ چیف جسٹس کے مطابق اس کے علاوہ یہ ایشو بھی تھے کہ ویڈیو کے نواز شریف کے مقدمے اور جج ارشد ملک کے مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری 25 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لکھا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ احتساب عدالت کے جج کی طرف سے دیے گئے فیصلے میں شہادتوں کا جائزہ لے کر اس سزا کو ختم کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے اس کے علاوہ عدالت عالیہ کے پاس یہ بھی اختیار ہے کہ دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ دے سکتی ہے۔ ہائی کورٹ چاہے تو فیصلے کو دوبارہ ٹرائل کورٹ بھی بھیج سکتی ہے اور ٹرائل کورٹ فریقین کو سُن کر کیس سے متعلق فیصلہ کر سکتی ہے۔

About یُسری شکیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے