Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / ساحل سمندر پر لہریں گنیں، رقص کریں اور سارے دکھ بھول جائیں

ساحل سمندر پر لہریں گنیں، رقص کریں اور سارے دکھ بھول جائیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں بہت سے لوگ تفریح کی غرض سے کلفٹن، ہاکس بے، سینڈزپٹ اور مینوڑہ جیسے ساحلوں پر جاتے ہیں۔ ہوا کے تھپیڑوں کے ساتھ ساحل کی طرف آتی موجوں کا نظارہ بہت سے لوگوں کو سکون اور اطمنان فراہم کرتا ہے۔

امریکہ کے معروف ساحلی شہر لاس اینجلس میں رقص کی حرکات کے ساتھ تھیریپی کی ماہر جولیا وشنے پولسکی کا کہنا ہے کہ ساحلوں پر وقت گزارنے اور وہاں رقص جیسی حرکات کرنے سے درد، خوف اور مایوسی ختم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رقص کی ہر حرکت کا ایک مقصد ہوتا ہے اور جب وہ کانوں پر ہیڈ فون لگا کر موسیقی سنتی ہیں تو ان کا جسم خود بخود حرکت کرنے لگتا ہے اور ان کی ساری تھکن، ذہنی دباؤ اور مایوسی ختم ہو جاتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد 9 برس قبل غیر متوقع طور پر انتقال کر گئے تھے اور بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ رقص کی حرکات سے اپنے دکھ کو کم کرنے میں کامیاب ہو ئیں اور خود کو بہتر انداز میں سمجھنے لگیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے رقص مشغلے کے طور پر شروع کیا لیکن جلد ہی یہ ان کے پیشے میں تبدیل ہو گیا۔ جولیا نے رقص کی حرکات سے تھیریپی کی تربیت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کلینکل مینٹل ہیلتھ کاؤنسلنگ میں ڈگری حاصل کی اور پھر رقص کی حرکات کے ذریعے لوگوں میں ذہنی دباؤ، پریشانی اور تھکن کو دور کرنے میں مدد دینے کے لیے خود کو وقف کر دیا۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے لاس اینجلس کے وینس ساحل کا انتخاب کیا جہاں وہ اپنے شاگردوں کو رقص کی تربیت دیتی ہیں۔ ہر ہفتے درجنوں اور بعض اوقات سینکڑوں لوگ اپنا ذہنی دباؤ، پریشانیاں اور بچپن کے خوف دور کرنے کے لیے اس ساحل پر آتے ہیں اور ان کی کلاس میں شامل ہوتے ہیں۔

جولیا بتاتی ہیں کہ اس تربیت کے لیے فیس 20 ڈالر ہے۔ تاہم جو لوگ یہ فیس ادا کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، انہیں بغیر فیس کے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ تربیتی سیشن کے دوران ایک ڈی جے موسیقی بجاتا ہے اور گروپ میں شامل لوگ ہیڈ فون کے ذریعے موسیقی سنتے ہوئے رقص کرتے ہیں اور لہروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنی پریشانیاں اور خوف ساحل پر چھوڑ جاتے ہیں۔

تربیتی گروپ میں شامل ایک امریکی شہری کرسٹینا ویبر کا کہنا ہے کہ وہ بہت سکون محسوس کرتی ہیں اور انہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی تمام پریشانیاں اور دکھ سمندر کی موجوں میں دھل کر صاف ہو گئے ہیں۔ گروپ میں شامل ایک اور شہری ایگور کا کہنا تھا کہ انہیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ ان کے ارد گرد کوئی نہیں ہے بس وہ ہیں اور سمندر کی موجیں۔

About عنصر ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے