Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / نائیجریا پولیو سے محفوظ ملک قرار، پاکستان اور افغانستان میں وائرس باقی

نائیجریا پولیو سے محفوظ ملک قرار، پاکستان اور افغانستان میں وائرس باقی

نائیجیریا کی جانب سے ملک سے پولیو وائرس کے خاتمے کے بعد دنیا کے 200 سے زیادہ ملکوں میں صرف پاکستان اور افغانستان دو ایسے ملک باقی رہ گئے ہیں جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔ جب کہ اس سال افغانستان کے مقابلے میں پاکستان میں پولیو کے دوگنا سے زیادہ واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

نائیجیریا نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ تین سال کے دوران ملک بھر میں کہیں سے بھی پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جو پولیو کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

نائیجیریا میں پولیو کے انسداد کے بعد افریقہ بھر میں بچوں کے خطرناک مرض پولیو کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

نائیجیریا کی بنیادی صحت سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر فیصل شعیب نے کہا ہے کہ تین سال تک پولیو وائرس کا کوئی کیس سامنے نہ آنا نائیجریا اور گلوبل کمیونٹی کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔

نائیجریا براعظم افریقہ کا سب سے زیادہ گنجان آباد ملک ہے اور یہ اس براعظم کا باقی رہ جانے والا واحد ایسا ملک بھی تھا جہاں پولیو وائرس موجود تھا۔ لیکن اگست 2016 کے بعد سے وہاں پولیو کا کوئی کیس درج نہیں ہوا۔

پولیو وائرس انسان کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر حملہ کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتا ہے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔

پولیو کا وائرس متاثرہ شخص کے فضلے میں موجود ہوتا ہے۔ اس کے پانی یا خوراک میں ملنے سے یہ دوسرے افراد تک پہنچ جاتا ہے۔

پولیو میں مبتلا ہونے کے بعد اس کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن اسے پھیلنے سے پہلے ویکسین کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں دو ملک ایسے باقی رہ گئے ہیں جہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔ یہ دونوں جنوبی ایشیائی ملک پاکستان اور افغانستان ہیں۔

افغانستان میں اس سال جولائی تک پولیو کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جب کہ اس سال پاکستان میں یہ تعداد اب تک 53 کے ہندسے کو پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کے کئی علاقوں میں پولیو کی روک تھام کی مہم کو خطرات کا سامنا ہے اور کئی پولیو رضاکار مہم کی مخالفت کرنے والوں کے حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

حال ہی میں خبیر پختونخوا کے بعض علاقوں میں تاجروں اور کئی دوسرے گروپس نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلوانے سے انکار کر دہا تھا۔

About عنصر ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے