Home / کاروبار / گوادر فری زون میں الگ سے کسٹمز اسٹیشن اور ڈرائی پورٹ کی تجویز

گوادر فری زون میں الگ سے کسٹمز اسٹیشن اور ڈرائی پورٹ کی تجویز

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے گوادر فری زون رولز کے اجرا کو گوادر فری زون سے متعلق ٹیکس ایشوز کے حل سے مشروط کردیا ہے اور ایف بی آر نے وزارت میری ٹائم افئیرز کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ گوادر فری زون سے سے متعلق ٹیکس سے متعلق مجوزہ ترامیم کے نفاذ کے بعد گوادر فری زون رولز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائیگا۔

’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے وزارت میری ٹائم افیئرز کو بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کی جانب سے گوادر فری زون رولز کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے اور جلد لا ڈیوژنکو توثیق کیلیے بھجوادیا جائیگا اور جیسے ہی گوادر فری زون کے ٹیکس سے متعلقہ ترامیم لاگو کی جائیں گی تو ان رولز کو لاگو کرنے کیلیے نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر فری زون میں الگ سے کسٹمز اسٹیشن اور ڈرائی پورٹ تعمیر کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے جبکہ گوادر پورٹ اور گوادر فری زون میں آنے والے سامان کی تیز ترین کلیئرنس کیلیے الگ سے کارگو ہینڈلنگ فسلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کی تجویز بھی ہے۔

علاوہ ازیں سی پیک روٹ پر سامان کی ترسیل کیلیے استعمال ہونیوالی گاڑیوں میں ای ٹریکنگ سسٹم نصب ہونگے اور کسٹمز اتھارٹیز سی پیک روٹ پر داخلی و خارجی پوائنٹس پر کنٹینرز کی سیل اتارنے اور دوبارہ سے سیل لگانے کے اختیارات ہوںگے ۔اس کے علاوہ سی پیک روٹ پر ہر ایک سو کلو میٹر کے بعد خصوصی دفاتر کھولنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر فری زون رولز میں ملک کے دیگر اکنامک فری زونز اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز کی طرح رولز و پروسیجر متعارف کروائے جائیں گے اور اگر ای سی سی کی جانب سے گوادر فری زون اور گوادر پورٹ سے متعلق ٹیکس قوانین میں ترامیم کی منظوری آئندہ اجلاس میں دیدی جاتی ہے تو آئندہ ماہ کے دوران رولز جاری کردیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے وزارت میری ٹائم افیئرز کی جانب سے ای سی سی کیلیے تیار کی جانیوالی سمری پر اپنے کمنٹس دے دیے ہیں اور ان کمنٹس میں ایف بی آر نے گوادر فری زون میں وئیر ہاؤسنگ کے مقاصد کیلیے اشیا کی درآمد کو سیلز ٹیکس سے چھوٹ دینے اور چائنہ اوور سیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی(سی او پی ایچ سی ایل) اور اسکی آپریٹنگ کمپنیوں کو گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کیلیے گاڑیوں کی درآمد پر 23 سال کی بجائے 40 سال کیلیے کسٹمز ڈیوٹی و ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کی مخالفت کردی ہے البتہ گوادر فری زون اور گوادر فری پورٹ پر کنسیشن ایگریمنٹ اور حکومت کی جانب سے دی جانیوالی ڈیوٹی و ٹیکسوں یں دیگر تمام چھوٹ و مراعات فراہم کی جائیں گی۔

About صالیحہ ناصر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے