بھارتی بحر یہ کا نیٹ سکیورٹی پر ووائڈر کے بارے میں فر ضی داستان کا بھا نڈاپھوٹ گیا

بھارتی بحر یہ کابحر ہند میں نیٹ سکیورٹی پر ووائڈرکا دعوی کھوکھلا ثا بت ہوا کیونکہ بھارتی بحر یہ نے خلیج عمان اور خلیج فارس کا سیکورٹی آپریشن ”آپریشن سنکالپ“ یکا یک بند کر دیا۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق بھارتی آئل ٹینکرز کی حفاظت پر مامور بھارتی بحری جہاز خاموشی سے خلیج عمان سے جا چکے ہیں۔ بہت زیادہ تشہیرکیے جانے والے ”آپریشن سنکالپ“ کا اچانک اختتام بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں اور بحر ہند میں علاقائی تھانیدار ہونے کے دعوے پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اسی سال جون میں خلیج فارس میں آئل ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کے واقعات کے بعد بھارتی بحریہ نے امریکہ کی سربراہی میں آپر یشن سر انجام دینے والے کثیر الملکی فورس کا حصہ بننے کے بجائے اپنے دو بحری جنگی جہاز خلیج فارس میں تعینات کر دئیے تھے تاکہ خلیج فارس اورر خلیج عمان سے تیل لانے والے بھارتی تجارتی جہازوں کو حفاطت اور مدد فراہم کی جاسکے۔ بھارتی بحریہ کے دعوے کے مطابق انکے ایئر کرافٹ کے ذریعے خطے میں حفاظتی فضائی گشت بھی کیاجارہا تھا۔

”آپریشن سنکالپ“ کے آغاز کے بعد بھارتی میڈیا نے ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کے بھارتی بحریہ کی ٹیمیں بھارتی تجارتی جہازوں پر موجود ہیں اورر آبنائے ہرمز جیسے خطرناک خطے میں ان کی سکیورٹی کو یقینی بناتی ہیں۔ آپریشن سنکالپ کے تحت بھارتی بحریہ کے اقدامات کو میڈیا میں نہ صرف بے پناہ تشہیر دی گئی بلکہ ہر خبرکو ایک بہت بڑا کارنامہ بنا کر پیش کیا گیا کہ بھارتی بحریہ پوری تن دہی کے ساتھ یہ آپریشن سرانجام دے رہی ہے اور خلیج فارس کی بحری گزر گاہوں کو محفوظ بنارہی ہے۔

یہ راستہ بھارت کی انرجی کی 55فیصد ضروریات کی آمدورفت کا وسیلہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کا پرْہیجان آپریشن اچانک بند ہو گیا اور بھارت کے دونوں بحری جنگی جہازاپنے اہداف مکمل کیے بغیر آبنائے ہرمزچھوڑ کر چلے گئے کیونکہ وہاں صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن سنکالپ کامکروہ اختتام بیرونی محرکات سے زیادہ بھارتی بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں پائے جانے والے نقائص کا نتیجہ ہے۔ ہندوستانی دعوے کے برخلاف بحر ہند میں بھارتی بحریہ کا بلیو واٹر نیوی ہونے کا دعوہ اور خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا،اس طرز کے کسی بھی اعزاز کے دعوے کے لیے بھارتی بحریہ کی صلاحیتیں انتہائی ناکافی ہیں۔

قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی موجودہ صورت ِحال کے بعد بھارتی بحریہ نے اپنے جہازوں کے خلیج ممالک کے طے شدہ خیر سگالی دورے بھی منسوخ کر دیے ہیں جو اس حقیقت کوبیان کرتے ہیں کہ بحرہ ہند میں راج کا خواب دیکھنے والی نام نہاد بھارتی نیوی اپنی آپریشنل ضروریات کو پورا کر نے کے لیے کشمکش کا شکار ہے ۔

یہاں تک گزشتہ اقتدار کے دوران پروان پانے والی مودی ڈاکٹرائن”سمندری طاقت کیذریعے سیاسی اثر و رسوخ کا حصول“ بھی کسی طرح سے بھارتی بحریہ کی مدد نہ کر سکی کہ وہ مطلوبہ عسکری صلاحتیں حاصل کر سکے۔

مزید یہ کہ آپریشن سنکالپ کو ختم کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارتی بحریہ سمندر میں ناقص لاجسٹک سپورٹ، افرادی اور مادی ضروریات کی کمی کاشکار ہے۔جوکہ بھارتی بحریہ کے لیے باعث پریشانی ہے۔ بھارتی میڈیا کے ذریعے بڑے بڑے دعوے کرنے کے برعکس بھارتی بحریہ آبناے ہرمز میں اپنی موجودگی برقرار نہ رکھ سکی اور اسے مجبوراًواپس آنا پڑا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں