ایران نے فرانس کو ’جوہری اقدام کے خطرے‘ سے آگاہ کردیا

ایران (ویب ڈیسک)ایران نے فرانس کو خبردار کیا ہے کہ جب تک یورپ اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا اس وقت تک یورینیم کی افزودگی میں کمی کا امکان نہیں ہے۔خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرو سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا کہ اگر یورپ اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکتا تو تہران یورپی ممالک جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی شرائط کو مزید نظر انداز کردے گا۔ایران کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری حسن روحانی کے بیان میں کہا گیا کہ ’تیسرا قدم بھی دیگر اٹھائے گئے دو اقدام کی طرح ناقابل واپسی ہوگا‘۔حسن روحانی نے فرانس کے صدر کو کہا کہ ’بدقسمتی سے امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کے بعد یورپین ممالک نے معاہدے پر عملداری سے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے‘۔انہوں نے واضح کیا کہ ’ جے سی پی او اے کی شرائط نا قابل تبدیل ہیں اور تمام فریقین کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے‘۔ایرانی صدر کا کہنا تھا تہران کی دو ترجیحات ہیں تمام فریقین جے سی پی او اے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سمیت تمام سمندری راستوں پر خدشات سے آزاد آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھیں۔دوسری جانب فرانسیسی صدر کے آفس سے جاری اعلامیے میں کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے پر زور دیا گیا۔اعلامیے میں ایمانوئل میکرو نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جائے اور خطے میں پائیدار حل تلاش کیا جائے۔علاوہ ازیں فرانسیسی سفارتی ذرائع نے بتایا کہ پیرس اور تہران کے مابین حالیہ گفت و شنید کے بعد واضح ہوا ہے کہ ایرانی صدر تاحال مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین کشدیدگی بڑھ گئی ہے اور واشنگٹن نے خلیج فارس میں بحری جنگی بیڑا اور بی 52 بمبار تعینات کردیئے ہیں۔7 جولائی کو برطانیہ، فرانس، جرمنی سمیت روس اور چین نے ایران کو یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکا کی جانب سے ’ایران جوہری معاہدے 2015‘ سے دستبردار ہونے کے باوجود تہران کو معاہدے کے تحت اقتصادی فوائد حاصل رہیں گے۔خیال رہے کہ ایران، امریکی صدر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرچکا ہے اور اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’امریکی جارحیت ناقابلِ قبول ہے‘۔انہوں نے کہا تھا کہ ’بحری جنگی بیڑا اور بی 52 بمبار کی تعیناتی کسی واقعے کا آغاز ہوسکتا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب کچھ لوگ جنگ کے خواہاں ہیں‘۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں