یمن میں جیل پر سعودی اتحاد کی بمباری، درجنوں ہلاکتیں

یمن (ویب ڈیسک)سعودی اتحادیوں کی جانب سے یمن کے جنوبی مغربی علاقے میں ایک قید خانے میں بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے۔خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق حوثی باغیوں اور ریڈ کراس کے عہدیدراوں کے مطابق سعودی اتحاد کی جانب سے کی گئی بمباری سے جیل میں موجود افراد کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوگئی۔سعودی اتحاد کا کہنا تھا کہ یمن کے شہر میں ذمار میں ڈرون اور میزائل کے ڈپو کو تباہ کردیا گیا ہے۔ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی کے سربراہ فرانز روشینٹن کا کہنا تھا کہ جیل اور ہسپتالوں کے دورے کے بعد ‘محتاط اندازے کے مطابق 100 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں’۔حوثی باغیوں کی وزارت صحت نے اس سے پہلے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حراستی مرکز سے 60 لاشوں کو نکالا گیا ہے جبکہ انتظامیہ کے مطابق کمپلیکس میں 170 افراد قید تھے۔فرانز روشینٹن کا کہنا تھا کہ ‘تین عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں قیدیوں کو رکھا گیا تھا اور ان میں سے اکثر ہلاک ہوگئے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ یمنی ریڈ کراس سوسائٹی لاشوں کو نکالنے میں مصروف ہے اور 50 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔خبرایجنسی کو مقامی افراد نے کہا کہ مذکورہ عمارت میں 6 مرتبہ بمباری کی گئی۔ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ ‘دھماکا زور دار تھا اور پورا شہر ہل گیا تھا جس کے بعد صبح تک ایمبولینس کی آوازیں آرہی تھیں’۔سعودی اتحادی فوجوں کو اس سے قبل بھی فضائی کارروائی سے بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے شدید تنقید کاسامنا کرنا پڑا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ذمار میں شہریوں کی حفاظت کے اقدامات کیے ہیں اور یہ کارروائی عالمی قانون کے مطابق ہے۔المسیرہ ٹی وی کے مطابق باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ ‘قیدیوں کے خلاف حملہ آوروں کے جرائم ان کے حامیوں سمیت تمام یمنی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا ایک اضافی ثبوت ہے’۔حوثیوں کی جیل کے حوالے سے قومی کمیٹی کے سربراہ عبدالقدیر المرتضیٰ کا کہنا تھا کہ مارے گئے قیدیوں میں سے اکثر کو مقامی سطح پر جنگی قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیا جانا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات اور یمنی صدر ہادی کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے جس کے بعد کہا جارہا تھا کہ سعودی عرب کی رہنما میں قائم اتحاد میں دراڈیں پڑ گئی ہیں۔اختلافات کے بعد متحدہ عرب امارات کے حامی گروپ نے حکومت کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے اہم سرکاری عمارتوں اور بندرگاہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے دونوں فریقین کو مذاکرات کے لیے جدہ طلب کرلیا تھا۔یاد رہے کہ یمن میں 2014 میں اس وقت تنازع شروع ہوا تھا جب حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھال کر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔بعدازاں 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے اتحاد نے حوثیوں کے خلاف لڑائی کا ا?غاز کیا تھا اور اتحادیوں کا کہنا تھا کہ باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ ایران نے ان بیانات کو مسترد کر دیا تھا۔سعودی اتحادیوں کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے علاقے میں سنگین انسانی بحران کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔حدیدہ بندرگاہ، جنگ زدہ یمن میں آنے والی امداد کا واحد ذریعہ ہے جہاں 1 کروڑ 40 لاکھ افراد قحط کا شکار ہو گئے تھے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں