Home / سائنس اور ٹیکنالوجی / بھارت کے خلائی مشن کی ناکامی پر سوشل میڈیا پر ‘لفظی جنگ’

بھارت کے خلائی مشن کی ناکامی پر سوشل میڈیا پر ‘لفظی جنگ’

بھارت کے چاند پر اترنے کے خلائی مشن کی ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ جس میں بعض لوگ اس مشن کی ناکامی اور اس پر ہونے والے اخراجات پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ بعض لوگ اس کو مستقبل کے لیے نیا راستہ قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بحث میں پاکستان کے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بھارتی خلائی مشن چندریان-ٹو کی ناکامی پر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے خلائی مشن پر کچھ اس انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا تھا جیسے وہ سیاست دان نہیں خلا باز ہوں ۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 900 کروڑ روپے ضائع کرنے پر لوک سبھا کو مودی سے جواب طلب کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بھارت نے پچھلے ماہ چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں اترنے کا مشن ترتیب دیا تھا۔ چاند کے اس حصے پر پہلے کوئی بھی ملک نہیں اترا تھا۔

امریکہ، روس اور چین دنیا کے وہ ممالک ہیں جو چاند پر اترنے میں کامیاب رہے ہیں۔ بھارت کی کوشش تھی کہ وہ چاند پر قدم رکھنے والا چوتھا ملک بن سکے۔

جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب چندریان-ٹو چاند کی سطح سے بہت قریب تھا کہ اس کا رابطہ زمین پر خلائی سینٹر سے منقطع ہوگیا۔ جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا نے اس مشن کو ناکام قرار دیا تھا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت کے سوشل میڈیا صارفین انہیں ایسے دھمکا رہے ہیں جیسے مشن انہوں نے ناکام بنایا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ 900 کروڑ روپے لگاؤ۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں مشورہ دیا کہ ‘اب صبر کرو اور سونے کی کوشش کرو’۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی بھارت کے چاند پر جانے کے مشن کی ناکامی پر ٹوئٹ میں بھارت کے خلائی ادارے ‘اسرو‘ کو ٹیگ کرتے ہوئے طنزیہ شاباش دی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اب اس کا ذمہ دار کسے ٹہراتے ہیں؟ پابندیوں میں جکڑے کشمیریوں کو؟ یا پھر آئی ایس آئی کو؟

ایک ٹوئٹر صارف محمد طلحہ بغدادی نے چاند کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ’بھارتیوں کا داخلہ بند ہے۔

ایک اور صارف نے اپنی رائے کچھ اس طرح دی

تاہم کچھ بھارتی شہریوں نے نریندر مودی اور سائنسدانوں و قوم کو تسلی بھی دی ہے اور حوصلہ بھی بڑھایا ہے۔

ایک صارف نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ :

ایک خاتون لکھتی ہیں:

About عنصر ملک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے