پاکستان معاشی اصلاحات نافذ کرنے میں کامیاب ہو گا، آئی ایم ایف

کراچی:  عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان سخت معاشی اصلاحات مکمل طور پر نافذ کرنے میں کامیاب رہے گی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ جن اصلاحات پر اس نے عالمی ادارے سے 6 ارب ڈالر قرض لیتے ہوئے رضامندی ظاہر کی تھی اور ان اصلاحات کے نتیجے میں حکومت پاکستان طویل المدتی بنیاد پر پائیدار معاشی ترقی حاصل کرسکے گی۔

مرکزی بینک کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے کے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ڈائریکٹر جیہاد ازور کی سربراہی میں ایک وفد نے مرکزی بینک کے سربراہ رضا باقر سے ملاقات کی اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان نے حال ہی میں آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر قرض کے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت حکومت پاکستان معیشت میں بہتری کے لیے بنیادی اصلاحات کرے گی جس کے لیے جولائی میں بنیادی شرح سود کو8 سال کی بلند ترین سطح 13اعشاریہ 25 پر رکھا گیا،ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 32 فیصد کم کی گئی، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ رواں سال محصولات کا ہدف پانچ کھرب پانچ سو ارب روپے رکھا گیا ہے۔

حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں معیشت کے موجودہ بحران سے نکلا جاسکے گا۔حکومتی معاشی اصلاحات کا نتیجہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس وقت کم ترین سطح پر ہے جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ یعنی جولائی اور اگست میں گزشتہ سال کے اسی دو ماہ کے مقابلے میں زیادہ رہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں