امریکا صیہونیت کی مخالفت کبھی برداشت نہیں کرے گا، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے ماضی میں اسرائیل کو کینسر قرار دیا تھا، امریکا صیہونیت کی مخالفت کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا کا مستقبل عالمگیریت میں نہیں بلکہ حب الوطنی میں ہے، ہم سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں کو عوام کی آواز دبانے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ان روایات کی سختی سے حفاظت کرے گا جن کی بنیاد پر یہ ملک سب سے آگے ہے، امریکا اپنی فوج کی از سرنو تعمیر کررہا اور سب سے بڑی فوجی طاقت ہے تاہم ہم اس طاقت کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔

عالمی تجارت کے حوالے سے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عشروں سے چند ممالک بین الاقوامی تجارت کا استحصال کر رہے ہیں، دوست ممالک اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کی خود ذمہ داری اٹھائیں۔

ایران کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق امریکی مؤقف اٹل ہے، ایران دہشت گردی کو فروغ دینے والے پہلے ممالک میں شامل ہے، ایرانی حکام نے ہمیشہ امن بات چیت کو مسترد کیا ہے، ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی موجودہ روش جاری رہی تو امریکا پابندیاں سخت کردے گا، ایرانی قیادت نے ماضی میں اسرائیل کو کینسر قرار دیا تھا، امریکا صیہونیت کی مخالفت کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

چین کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا چین سے تجارتی معاہدہ چاہتا ہے لیکن مشترکہ مفادات کی بنیاد پر، چین پر تجارتی محصولات عائد کرنے سے بہت سی امریکی کمپنیاں چین سے واپس امریکا لوٹ رہی ہیں اور یہ کہ چین کے مستقبل کا تعین اس بات سے ہوگا کہ وہ ہانگ کانگ کے مسئلے سے کیسے نمٹتا ہے۔

افغان امن عمل سے متعلق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُن کی انتظامیہ افغانستان کے بہتر مستقبل کی خواہاں ہے لیکن افسوس کے طالبان ایسا نہیں چاہتے۔

شمالی کوریا کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے جوہری منصوبہ ترک کرنا ہوگا، امریکی صدر

انہوں نے مزید کہا کہ سوشلزم ملکوں اور معاشروں کی تباہی لاتا ہے اور یہ کہ وینزویلا کی تیل کی دولت کا استحصال کیوبا کر رہا ہے، شمالی کوریا کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے جوہری منصوبہ ترک کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر غیر قانونی امیگریشن پائیدار نہیں اور معاشی ترقی کیلئے نقصان دہ ہے، این جی اوز کی بڑھتی ہوئی تعداد غیر قانونی امیگریشن کو بڑھا رہی ہے، بہت سے ممالک غیر قانونی تارکینِ وطن کے بوجھ تلے دب رہے ہیں اور امریکا اپنی جنوبی سرحد پر 27 ہزار فوجی تعینات کر رہا ہے۔

جنرل اسمبلی سے خطاب سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کا نکتہ نظر بے حد مختلف ہے، میں اس بارے میں فکرمند ہوں اور دونوں ممالک چاہیں گے تو ضرور ان کی مدد کروں گا۔ 

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کل پاکستانی وزیراعظم سے بہت اچھی ملاقات ہوئی، پاکستان اور بھارت کی بات چیت میں مدد کیلئے تیار ہوں، پاکستان اور بھارت چاہیں گے تو ضرور ان کی مدد کروں گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جس میں ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں