سعودی عرب کی نئی ویزا پالیسی میں خاتون سیاحوں کیلیے عبایا کی پابندی ختم

ریاض: سعودی عرب نے اپنے تاریخی مقامات کیلیے پہلی بار 49 ممالک کے لیے سیاحتی ویزہ کے اجرا کا اعلان کیا ہے جس میں سیاحوں کے لیے لباس میں نرمی کرتے ہوئے خواتین کے لیے عبایا کی لازمی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2023 کے تحت ملک میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے پہلی بار 38 یورپی ممالک، 7 ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت 49 ممالک کے لیے سیاحتی ویزوں کے اجرا کا اعلان کیا گیا ہے۔

سعودی کمیشن برائے سیاحت اور قومی ورثہ کے چیئرمین احمد الخطیب نے سیاحت کے فروغ کے لیے سعودی حکومت کی کوششوں سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ 2030 تک مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 100 ملین تک پہنچ جائے گی جب کہ نئی ویزہ پالیسی کے تحت خواتین سیاحوں کے لیے عبایا کی پابندی ختم کردی گئی ہے۔

یہ ویزہ 360 دن کے لیے ہوگا تاہم ایک مرتبہ 90 دن سے زیادہ قیام کی اجازت نہیں ہوگی اور سال میں 180 دن سے زیادہ رکنے کی اجازت نہیں ہوگی یعنی سال میں صرف دو مرتبہ وقفے وقفے سے 90، 90 دن کے لیے ٹھہرا جا سکے گا۔ ویزہ 300 سعودی ریال کا ہوگا جب کہ مزید 140 ریال سفری انشورنس کے ہوں گے۔

چیئرمین احمد الخطیب نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سیاحت کیلیے کھولنا ایک تاریخی قدم ہے، سعودی عرب یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج کی 5 سائٹس رکھتا ہے، سیاح ان کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے۔ سیاحتی ویزوں کے اجرا کے معیشت پر دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں