بھنگ سے کینسر کا علاج ممکن؟ فنڈز آسٹریلیا فراہم کرے گا

آسٹریلیا بھنگ سے کینسر کا علاج ممکن بنانے کے لیے ہونے والی تحقیق کے لیے دو ملین ڈالرز سے زائد فنڈز فراہم کرے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق آسٹریلیا کے وزیر صحت گریگ ہنٹ نے اتوار کو بتایا کہ بھنگ سے بنی ادویات اور مصنوعات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بہت سے مریض بھنگ سے بنی ادویات کو استعمال کرنے کے بعد انہیں اپنے لیے مفید قرار دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے یہ تحقیق ضروری ہے کہ کیا واقعی کینسر کا علاج بھی بھنگ سے بنی ادویات اور مصنوعات کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔

آسٹریلیا میں قانون کے مطابق ایسی ادویات صرف ڈاکٹر کے نسخے پر خریدی اور فروخت کی جاتی ہیں جبکہ بھنگ سے دوائیں بنانے کے لیے حکومت سے لائسنس لینا ضروری ہے۔

وزیر صحت گریگ ہنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ پچھلے سال تک 11 ہزار سے زیادہ مریضوں کو ان ادویات تک رسائی کی اجازت دی گئی تاہم اس سال تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔

وزیر صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھنگ طبی حوالوں سے کس حد تک مفید ہے اس بارے میں کلینکل اسٹڈی بہت قلیل ہے۔

ان کے بقول طب کے پیشہ ور اور ماہرین کی جانب سے ملنے والے ثبوتوں کی بنیاد پر تحقیق میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال مارچ تک صرف دو کمپنیوں نے بھنگ سے دوائیں تیار کرنے کے لیے ان کی افزائش اور فصل اگانے کے باقاعدہ لائسنس حاصل کیے تھے۔

وزیر صحت گریگ ہنٹ برطانوی نژاد آسٹریلوی فن کارہ اولیویا نیوٹن کی سربراہی میں ایک فنڈ جمع کرنے کی واک میں شریک تھے۔

اولیویا کینسر کی تشخیص کے بعد بھنگ سے کینسر کے علاج کی وکالت کرتی نظر آتی ہیں۔

بھنگ کا پودا

بھنگ کا پودا

فن کارہ اولیویا نیوٹن نے گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ میں بھنگ سے ادویات تیار کرنے کا حامی ہوں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے مریض درد اور بے خوابی سے بچ جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سے کینسر کے مریضوں کو فائدہ ہوگا۔

گریگ ہنٹ نے کہا کہ تجربات اور کوششوں سے بھنگ کی ادویات سے ہونے والے فوائد پر روشنی ڈالنے میں کسی حد تک مدد ملی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مریضوں تک ایسی ادویات کی رسائی کو یقینی اور آسان بنائے گی بشرط کوئی طبی پیشہ ور یا ماہر ایسی مصنوعات کو تجویز کرے۔

ان کے بقول وہ بھنگ کے بطور نشہ یا تفریح استعمال کی اجازت دینے کے حق میں نہیں، نہ ہی ان کے موقف میں اس حوالے سے کسی قسم کی لچک ہے۔

آسٹریلیا میں وفاقی قانون میں بھنگ کے استعمال پر پابندی عائد ہے ۔

حتمی فیصلے سے قبل اٹارنی جنرل کرسچن پورٹر اس حوالے سے تیار ہونے والے قانونی بل کی تحریری تفصیلات کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب اس تحقیق کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جنوری سے نافذ العمل منشیات کی روک تھام سے متعلق قانون اس کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ منشیات کے حوالے سے اس قانون کے تحت چرس پر بھی پابندی عائد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں