سندھ حکومت کو ویمن ریسکیو فورس بنانے کا حکم

قبرستان جیسی خاموشی ہوتی ہے تو ججز کو بولنا پڑتا ہے سندھ ہائیکورٹ
معروف نجی اسکول جیسے تعلیمی اداروں میں علم حاصل کرنا یتیم بچوں کا بھی حق ہے
بیورو کریسی اور حکومت کام کرنے کے بجائے صرف گاڑیوں اور گھروں کی ریس میں ہے
جب تک آپ لوگوں کی نیندیں حرام نہیں ہوں گی کوئی کام نہیں ہوگا، سرکاری افسران کی سرزنش
سیکریٹری تعلیم سندھ اور ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا
کراچی(اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت کو ویمن ریسکیو فورس بنانے کا حکم دے دیا۔ فاضل عدالت نے سندھ بھر میں یتیم خانوں اور یتیم بچوں کی رجسٹریشن‘ بے سہارا خواتین اور یتیم بچوں کی دیکھ بھال کے اداروں کی اصلاحات کیلئے کمیٹی بنانے اور ویمن پولیس اسٹیشنوں کو ویمن پروٹیکشن سینٹرز میں تبدیل کرنے کی ہدایات کردیں۔ پیر کو جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں2 رکنی بنچ نے بے سہارا اور گھریلو تشدد کا شکار خواتین کیلئے سیف ہائوسز کے قیام سے متعلق بینش لیاقت و دیگر کی درخواستوں کی سماعت کی‘ سیکریٹری تعلیم سندھ اور ڈی جی پرائیویٹ اسکولز کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔ دوران سماعت عدالت کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ صرف دو ماہ کے دوران کاروکاری قرار دے کر 30 خواتین کو قتل کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں آپ لوگوں کو اربوں روپے دے دیئے جائیں تو10سال بعد بھی کارکردگی صفر ہوگی۔ صرف کاغذی کارروائی نہیں ٹھوس اقدامات کریں۔ قبرستان جیسی خاموش ہوگی تو ججز کو بولنا پڑتا ہے۔ ایک معروف نجی اسکول جیسے تعلیمی اداروں میں علم حاصل کرنا یتیم بچوں کا بھی حق ہے۔ سماعت کے موقع پر جسٹس صلاح الدین پنہور کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ بیورو کریسی اور حکومت کام کرنے کے بجائے صرف گاڑیوں اور گھروں کی ریس میں ہے۔ اس موقع پر عدالت نے سرکاری افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ لوگوں کی نیندیں حرام نہیں ہوں گی کوئی کام نہیں ہوگا۔ بے سہارا خواتین اور یتیموں کی مدد ریاست ذمہ داری ہے بعد ازاں عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں