طب کا نوبیل انعام دو امریکی، ایک برطانوی ڈاکٹر کے نام

آکسیجن اور خلیوں کے تعلق پر تحقیق کرنے والے تین سائنس دانوں نے طب کا نوبیل انعام جیت لیا ہے۔ نوبیل انعام حاصل کرنے والوں میں دو امریکی ڈاکٹروں کے علاوہ برطانیہ کے ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔

ولیم کیلن امریکہ میں ایک کینسر انسٹی ٹیوٹ اور ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ ہیں۔ وہ پیر کو اس وقت خوشی سے سکتے کی کیفیت میں آ گئے جب نوبیل انعام کے لیے ان کے نام کا اعلان کیا گیا۔ ان کے ہمراہ گریگ سیمینزا اور برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پیٹر ریٹکلف کو بھی نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

ان ڈاکٹروں نے خلیات پر تحقیق کے بعد یہ دریافت کیا تھا کہ آکسیجن کے اتار چڑھاؤ کے مطابق خلیات کیسے خود کو ڈھالتے ہیں۔ اس تحقیق سے دل کے امراض بالخصوص ہارٹ فیل، خون کی کمی اور کینسر کے علاج میں مدد ملے گی۔

تینوں ڈاکٹروں کو 9 لاکھ تیرہ ہزار ڈالر کی انعامی رقم بھی دی جائے گی۔

نوبیل اسمبلی کے ممبر تھامس پرلمین نے صحافیوں کو بتایا کہ جب ان تینوں سائنس دانوں کو نوبیل انعام جیتنے کی خبر دی تو وہ بہت خوش تھے۔

انہوں نے کہا کہ ولیم کیلن کو انہوں نے پیر کو فون پر بتایا اور یہ خبر سننے کے بعد ولیم خوشی سے گنگ ہو گئے۔ ریٹکلف اپنے دفتر میں تھے اور سیمینزا سو رہے تھے جب انہیں انعام جیتنے کی خبر سنائی گئی۔

واضح رہے کہ روایت کے مطابق ہر سال دیے جانے والے ‘نوبیل پرائز’ جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان سب سے پہلے طب کے شعبے کے فاتحین سے کیا جاتا ہے۔

معروف سائنس دان اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل سے منسوب ‘نوبیل پرائز’ سب سے پہلے 1901ء میں سائنس، ادب اور امن کے شعبوں میں دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال طب کا نوبیل انعام دو سائنس دانوں نے سرطان کا نیا علاج دریافت کرنے پر جیتا تھا۔ ان میں سے ایک کا تعلق امریکہ اور دوسرے کا جاپان سے تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں