قومی فضائی کمپنی کو جھٹکے پر جھٹکا خسارے کا شکار قومی ایئر لائن کو غیر ملکی جعلساز چونا لگا گیا

ترکمانستان کی فضائی حدود میں اوور فلائنگ کا 65 ہزار ڈالرکابل سرکار کے بجائے جعلساز کو دے ڈالا
ادائیگی کی انوائس دوبارہ بھیجنے پر جعلسازی کا انکشاف ‘قومی ادارے کو دوسرا جھٹکا انتظامیہ کی غفلت سے ہی لگا
3 سال میں ساڑھے 10 کروڑ سے زائد کا کھانا ضائع کیا گیا‘ فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) ترکمانستان کی فضائی حدود میں اوور فلائنگ کا بل سرکار کے بجائے جعلساز کو دے ڈالا۔ نااہلیوں کی داستانیں بھی کم نہ ہو سکیں۔ 3 سال میں ساڑھے دس کروڑ روپے سے زائد کا کھانا ضائع کیا گیا۔تفصیل کے مطابق قومی فضائی کمپنی کو جھٹکے پر جھٹکا لگ رہا ہے۔ غیر ملکی جعلساز پی آئی اے کے65 ہزار ڈالر لے اڑا۔ ترکمانستان کی فضائی حدود میں پی آئی اے کی پروازوں کی اوور فلائنگ کا بل جعلساز کو کر دیا گیا۔رقم سرکاری بینک کے بجائے جعلساز کے بتائے گئے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ مارچ 2018میں ستر پروازوں کی اوور فلائنگ کیلئے اپریل میں ادائیگی کی گئی۔اصل ای میل ایڈریس پر بھیجی گئی، ای میل کے جواب میں جعلساز نے اپنا ای میل ایڈریس دیا۔ جعلی ای میل سے سرکاری بینک کے بجائے ترکی کے ایک بینک کے سوئفٹ کوڈ پر رقم منتقل کرائی گئی۔قومی ایئر لائن کے متعلقہ شعبے نے بینک تبدیلی کی تصدیق بھی جعلی ای میل ایڈریس سے کی۔ ترکمانستان کے شعبے کی جانب سے ادائیگی کی انوائس دوبارہ بھیجنے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا۔نو ماہ قبل معاملے کی محکمانہ انکوائری کی رپورٹ پر انتظامیہ نے کارروائی نہیں کی۔ انکوائری رپورٹ میں انکشافات اور تجاویز پر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔قومی ادارے کو دوسرا جھٹکا انتظامیہ کی غفلت سے ہی لگا۔ پی آئی اے فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ تین سالوں میں دس کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے کا کھانا ضائع کر دیا گیا۔2013سے 2015کے دوران 55 لاکھ 58 ہزار 284 مسافروں نے سفرکیا۔ 60 لاکھ 72 ہزار 839 مسافروں کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا۔پانچ لاکھ سے زیادہ مسافروں کے اضافی کھانے کا خرچہ 7 کروڑ 25 لاکھ 72 ہزار 526 روپے ہوا۔ لاہور ایئرپورٹ پر بھی اس عرصے میں 4 کروڑ 40 روپے کا کھانا ضائع ہوا۔آڈٹ رپورٹ میں نقصان کا ذمہ دار انتظامیہ کی ناقص پلاننگ کو قرار دیا گیا۔ معاملے پر پی آئی اے انتظامیہ کو 2016اور نومبر 2018میں آگاہ کیا گیا لیکن پی آئی اے انتظامیہ نے کروڑوں روپے کے اخراجات کا جواب ہی نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں