کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ تبدیل نہیں ہونے دیں گے،وزیراعلیٰ ‘سندھ اسمبلی میں ایم ایل ون کیخلاف قرار داد منظور

پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے‘مراد علی شاہ ایسی باتیں نہ کریں جس سے بغاوت کی بو آتی ہو‘ فردوس شمیم نقوی
ایم ایل ون کیلئے ٹریک نہیں بننے دوںگا‘ اپنے صوبے اور شہر کی بات کروںتو کہتے ہیں بغاوت کی بو آتی ہے ‘ مراد علی شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی نے پیر کو اپنے اجلاس کے دوران کے سی آر (کراچی سرکلر ریلوے) کے بجائے ایم ایل ون منصوبہ (مین لائن ون) بنانے کے خلاف حکومتی قراداد کثرت رائے سے منظور کرلی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم اپنے دورہ چین کے دورے میں کے سی آر کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ قرارداد کی منظوری سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں اس معاملے پر ایک سخت پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم کے سی آر کے روٹ پر ایم ایل ون نہیں بننے دیںگے‘ میڈیا سے پتہ چلا کہ وزیراعظم چین جا رہے ہیں‘ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کراچی سرکلر ریلوے کا کوئی ذکر نہیں کیا‘ ہم نے کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کو سی پیک میں شامل کرایا تھا‘ اکتوبر2017میں سرکلر ریلوے منصوبے کی ایکنک نے منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت کو3 خطوط لکھ چکا ہوں‘ مگر وزیراعظم نے کسی خط کا جواب نہیں دیا‘ گزشتہ ایک سال سے سی پیک سست روی کا شکارہے‘ سندھ کے منصوبوں کو تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ سرکلر ریلوے کی بحالی کا منصوبہ 2006میں پیش کیا گیا‘ جہاز اْڑ جائے تو خط نہیں لکھنا چاہیے‘ پہلے بھی خط لکھ سکتے تھے‘ پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے‘ایسی باتیں نہ کریں جس سے بغاوت کی بو آتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سندھ حکومت جو قرارداد ایوان میں پیش کرنا چاہتی ہے اس کی زبان درست ہوگی تو ہم اس کی حمایت کریں گے ورنہ نہیں۔ اس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ واضح طور پر کہتاہوں کہ صرف ایم ایل ون کے لیے ٹریک نہیں بننے دوںگا‘ اپنے صوبے اور اپنے شہر کی بات کروںتو کہتے ہیں کہ بغاوت کی بو آتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے میں وفاقی حکومت سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ کے سی آر منصوبے پر وزیراعظم چینی حکام سے بات کرکے اس کو سی پیک میں شامل کرائیں۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون بھی بہت اہم ہے لیکن کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ اپوزیشن نے قرارداد کی مخالفت کی۔ قرارداد کی منظوری کے وقت اپوزیشن نے شور شرابہ کیا گیا۔ قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں بات کرنے نہیں دیتے۔ جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ آپ نے بات کرنے کی اجازت لی پوری تقریر کرڈالی ‘ قائد ایوان کی تقریر کے بعد آپ کو بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ دریں اثنا سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) پر وفاقی حکومت کی سرد مہری اور ان کا رویہ قابل افسوس ہے ‘وزیر اعظم کے دورے کے دوران ان کی جانب سے سی پیک پر جو نکات رکھے گئے ہیں‘ ان میں کے سی آر کو شامل نہ کرنا سندھ دشمنی ہے‘ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ایک سال سے کراچی میں ترقیاتی کاموں کے لیے عوام کو لولی پاپ دیتی رہی اور 162 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا دعویٰ کرنے والی اس نااہل اور ناکام حکومت نے آج تک اس صوبے اور شہر کراچی میں ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ کے سی آر کے معاملے پر عدالت عظمیٰ بھی متعدد بار مختلف فیصلوں میں کہہ چکی ہے کہ اس منصوبے کو جلد سے جلد شروع کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کے حکومت مارچ کے حوالے سے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اس مارچ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ پارٹی کی اسی ہفتے ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا‘ مولانا فضل الرحمن اور ان کی پارٹی کے مطالبات بالکل جائز ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے اس ملک کو بدترین معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اعتراضات پر وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ وہ عقل سے پیدل انسان ہیں، اس لیے ہم ان کی کسی بھی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں