بلوچستان میں تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئیں

کراچی( کامرس رپورٹر)بلوچستان کی تاجر برادری ،کسٹم کلیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن ،ٹرانسپورٹرز،امپورٹرز ایکسپورٹرز اور تفتان کلیرنگ ایجنٹس کی جانب سے آج سے ایف بی آر اور کسٹم حکام کے ناروا روئیے کے خلاف ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کو غیر معینہ مدت تک بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تمام تر کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں اس سلسلے میں گزشتہ دنوں صوبے کے امپورٹ ایکسپورٹ،ٹرانسپورٹرز اور کلیرنگ ایجنٹس کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس میں ایف بی آر اور حکومتی حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایف بی آر حکام ، چیف کلکٹر کسٹم اور اسلام آباد کا عملہ قانونی تجارت کو مختلف بہانوں سے بند کرنے اوردانستہ طور پر اسمگلنگ کو فروغ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے ایک طرف فیڈرل گورنمنٹ اور وفاقی ادارے کہہ رہے ہیں کہ ٹیکس دو اور کاروبا کرو لیکن دوسری جانب ایف بی آر اور کسٹم حکام کا رویہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ تاجروں امپورٹرز ،ایکسپورٹرز اور کلیرنگ ایجنٹس کا کہنا ہے کہ ایران سے درآمد ہونے والی تمام اشیاء پرباقاعدگی سے ڈیوٹی ٹیکس ادا کر کے انہیں کسٹم سے کلیئر کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کلکٹر پرونٹو کا اسٹاف مختلف بہانوں سے گاڑیاں روک کر بھتہ لیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کے تاجر اپنے مسائل کے حل کے لئے چیف کلکٹر سے ملاقات کرنے کے لئے جاتے یا پھر رابطہ کرتے ہیں تو موصوف ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں بلکہ ان کے اقدامات سے قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ،چیف کلکٹر اور ایف بی آر اسلام آباد عملے کے اس رویہ کے باعث بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ماند پڑ چکی ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں