پاکستان سے جنگ کے معاملے پر بھارت 3 دھڑوں میں تقسیم

ایک دھڑا وہ ہے جو مودی سرکار کو سپورٹ کر رہا ہے اور جنگ کا حامی ہے
دوسرا دھڑا اپوزیشن کا ہے جو جنگ کے نتیجے میں نقصانات سے با آور کروا رہا ہے
تیسرا دھڑا سکھ کمیونٹی کا ہے جو پاکستان کا ساتھ دینے کا کْھلم کْھلا اعلان کر چکا ہے
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان سے جنگ کے معاملے پر بھارت اس وقت تین دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ ایک دھڑا وہ ہے جو مودی سرکار کو سپورٹ کر رہا ہے اور جنگ کا حامی ہے۔ دوسرا دھڑا بھارت کی اپوزیشن کا دھڑا ہے جو تھوڑی سمجھ بوجھ سے کام لیتے ہوئے مودی سرکار کو جنگ سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بہ آور کروا رہا ہے جبکہ تیسرا دھڑا سکھ کمیونٹی کا ہے جو پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پاکستان کا ساتھ دینے کا کْھلم کْھلا اعلان کر چکے ہیں۔دوسری جانب بھارتی افواج کے مورال کا ڈاؤن ہونا، فوجی افسران کا ملازمین کے ساتھ کیا جانے والا سلوک اور فوجی ملازمین کو ملنے والے ناقص ذائقے کے کھانے کی کہانیاں بھی کسی سے ڈھکی چْھپی نہیں ہیں ، بھارت کو 27 فروری کو پاکستان کی جانب سے ملنے والا سرپرائز بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہئیے۔ یہ تو پاکستان کا جذبہ خیر سگالی تھا کہ پاک فوج کی زیر حراست بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کردیا گیا وگرنہ ایسے قیدیوں کو رکھ کر عبرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔یہی نہیں بھارت کو عالمی عدالت برائے انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ، ان تمام چیزوں کے تناظر میں بھارت کو چاہئیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کا ارادہ مکمل طور پر ترک کر دے اور ملکی حالات کو بہتر کرنے اور بھارتی فوج کے مسائل کو حل کرنے میں اپنی توجہ صرف کرے۔ کیونکہ بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کے معاملے پر پہلے ہی تین دھڑوں میں تقسیم ہو چکا ہے ، سکھ کمیونٹی بھی پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے اور عین ممکن ہے کہ جنگ کا اعلان سْن کر بھارتی فوج کے کئی اہلکاروں کے چھکے ہی چھْوٹ جائیں۔ لہٰذا بھارت کو اس طرح کی کسی بھی بے وقوفی سے باز ہی رہنا چاہیے اسی میں دونوں ممالک اور خطے کی بھلائی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہی بھارتی ہٹ دھرمیوں اور لائن آف کنٹرول پر سیز فائز کی بارہا خلاف ورزیوں کے باوجود بھارت کو پْر امن مذاکرات کی پیشکش کی اور خطے میں قیام امن کی حمایت کی اور اسی مؤقف کو بھارت کے سامنے بھی رکھا لیکن بھارتی ہٹ دھرمی نے پاک بھارت تعلقات کشیدہ کرنے میں کوئی کسر اْٹھا نہ رکھی۔مودی سرکار نے پاکستان کو بارہا جنگ کی دھمکی دی جبکہ جنگ میں پہل کرنے کی بھی کوشش کی لیکن پاک فضائیہ نے 27 فروری کو بھارت کو اس کی جارحیت کا زبردست جواب دے کر قابل تعریف سرپرائز دیا جس نے بھارت کی جڑیں ہلا دی تھیں۔ 27 فروری کو پاک فضائیہ کی جانب سے سرپرائز ملنے کے بعد بھارتی حکمرانوں اور وزرا کی جانب سے کئی جارحانہ بیانات آئے جس میں پاکستان کو جنگ پر اْکسانے کی کوشش کی گئی جو بھارت کی دوسری کوششوں کی طرح مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔بھارت نے ایٹمی جنگ کے حوالے سے بھی بیان بازی کی۔ تاہم اب بھی پاک بھارت جنگ کا خدشہ ہر وقت دونوں ممالک پر منڈلا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں