صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل کے دو کاروباری ساتھی گرفتار

فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے دو کاروباری افراد کو امریکہ کے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور اُن کے بیٹے کے خلاف مبینہ کرپشن کے الزامات کی تحقیقات کیلئے صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی کی مدد کے الزام پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ ایسا کرتے ہوئے وہ صدارتی انتخاب کی مہم سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کے مرتکب ہوئے۔

نیو یارک کے علاقے مین ہیٹن میں یو ایس اٹارنی کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ یوکرینی نژاد امریکی شہری کیو پارنس اور بیلاروسی نژاد امریکی شہری ایگور فرومین کو بدھ کی شام ورجینیا کے ڈیلس ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا۔

ان دونوں افراد پر نیویارک کی ایک جیوری نے فرد جرم عائد کی اور انہیں جمعرات کے روز پہلی مرتبہ ورجینیا کے شہر ایلگذینڈریا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں وہ ان الزامات کا جواب دیں گے۔

فرد جرم کے مطابق دونوں افراد پر سازش کرنے سے متعلق دو الزامات کے علاوہ جھوٹے بیان دینے اور جعلی کاروباری ریکارڈ تیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان میں سے ایک الزام میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے گلوبل انرجی پروڈیوسرز کے نام سے ایک محدود لائیبلٹی کمپنی قائم کی، جس کے ذریعے انہوں نے دو پولیٹکل ایکشن کمیٹیوں کیلئے 340,000 ڈالر کے چندے اکٹھے کیے۔ فرد جرم کے مطابق انہوں نے یوکرین کے ایک سرکاری اہلکار سے مل کر اپنے ذاتی مالیاتی اور سیاسی مفادات کیلئے یہ رقوم اکٹھی کیں۔

ان کے علاوہ یوکرینی نژاد دو مزید امریکیوں آندرےکوکوشکن اور ڈیوڈ کوریا پر بھی اسی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہیں بھی جمعرات کے روز سان فراسسکو کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں