’نارمنڈی پر حملے میں کردوں نے امریکہ کی مدد نہیں کی تھی‘

شام کی شمال مشرقی سرحد پر جاری ترک فوجی کارروائی پر غور کے لئے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا اجلاس جمعرات کو ہو رہا ہے ۔

ترکی اور کرد فوج کے درمیان لڑائی کے خوف سے شہریوں نے علاقہ خالی کرنا شروع کر دیا ہے۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ بیشتر افراد پہلے ہی نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ باقی رہ جانے والی شہری بھی شہر سے نکلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

شام میں کردوں کے نیم خود مختار علاقے کے سرکاری ترجمان دیار احمد کا کہنا ہے کہ ترکی کے لڑاکا جہاز ان شہروں پر مسلسل ہوائی حملے کر رہے ہیں۔

اُدھر صدر ٹرمپ کی جانب سے ترک فوجی کارروائی کے بارے میں متضاد اشارے مل رہے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ ترکی کی طرف سے شام میں فوجی کارروائی کرنا ایک اچھا اقدام نہیں ہے۔انہوں نے شام میں جاری لڑائی کو ’بے معنی‘ قرار دیا۔

تاہم بعد میں صدر ٹرمپ نے ایک اور بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے کرد جنگجوؤں کی حالت زار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کردوں نے اگرچہ شام میں جنگ کے دوران داعش کو شکست دینے کیلئے امریکی فوجوں کا ساتھ دیا تھا؛ لیکن، دوسری جنگ عظیم کے دوران ’نارمنڈی‘ پر حملے میں انہوں نے امریکہ کی کوئی مدد نہیں کی تھی اور کرد یہ جنگ صرف خطہ زمین حاصل کرنے کیلئے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر لڑ رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ سب کہنے کے باوجود ’ہم کردوں کو پسند کرتے ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نےجمعرات کو ایک ٹویٹ میں کہا، ’’ترکی نیٹو کا رکن ہے اور لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اس جنگ سے دور رہنا چاہیے اور کردوں کو اپنی لڑائی خود لڑنے کا موقع دینا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ترکی قواعدکی پابندی نہیں کرتا تو اس پر سخت مالی اور دیگر پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔ میں حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہوں‘‘۔

ایک اور ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا، ’’ترکی عرصہ دراز سے کردوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ وہ ہمیشہ سے لڑتے آئے ہیں۔ اب اس علاقے اور اس کے قرب و جوار میں ہمارے کوئی فوجی موجود نہیں ہیں۔ میں اس نا ختم ہونے والی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور اس سلسلے میں دونوں فریقوں سے بات کر رہا ہوں۔ تاہم، کچھ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہاں ہزاروں امریکی فوجیوں کو بھیجنا چاہیے۔‘‘

شام میں داعش کے بہت سے جنگجوؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا، تاکہ وہ دوبارہ سر نہ اُٹھا سکیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ داعش کے ان جنگجوؤں کی رہائی کو روکنے کی تمام تر ذمہ داری اب ترکی پر عائد ہوتی ہے۔

تاہم، رپبلکن سنیٹر لنڈسے گراہم نے، جو صدر ٹرمپ کے بڑے حامی تصور کیے جاتے ہیں، صدر ٹرمپ کی طرف سے شام سے امریکی فوجوں کو واپس بلانے کے اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے ڈیموکریٹک سنیٹر کرس وان ہیلن کی حمایت سے ترکی کے خلاف سخت پابندیوں کی سفارش کی ہے۔ ان پابندیوں میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سمیت ترکی کی کلیدی شخصیات کے اثاثوں کو منجمد کرنا اور ان پر ویزے کی کڑی پابندیاں عائد کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی افواج کی طرف سے دفاعی ساز و سامان کی فراہمی سمیت ترک فوج کے لئے ہر طرح کا تعاون ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک فوج اور شام کی باغی ملیشیا نے بدھ کے روز شام میں شدید ہوائی حملے کیے ہیں۔ ترکی کے صدر اردوان کا کہنا ہے کہ یہ حملے ترکی کی سرحد کے قریب علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کی خاطر کیے گئے ہیں۔

لنڈسے گراہم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے ان کی سفارشات کو ویٹو کرنے کی کوشش کی تو رپبلکن پارٹی کے طرف سے بہت سے سینیٹر اس کی حمایت کر کے صدر ٹرمپ کے ویٹو کو غیر مؤثر کر دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں